قومی خبریں

ملک میں پانی کا بحران شدید، 166 آبی ذخائر کی سطح 40 فیصد سے نیچے، 8 صوبے سب سے زیادہ متاثر

سینٹرل واٹر کمیشن کے مطابق ملک کے 166 بڑے آبی ذخائر میں دستیاب پانی کم ہو کر کل صلاحیت کے 40 فیصد سے نیچے آ گیا ہے۔ وہیں کئی بڑے دریا میں بھی پانی کی سطح میں کمی درج کی گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صورتحال تیزی سے دباؤ کا شکار ہے اور موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی بحران کے آثار مزید واضح ہو گئے ہیں۔ سنٹرل واٹر کمیشن کے مطابق ملک کے 166 بڑے آبی ذخائر میں دستیاب پانی کم ہو کر اس کی کل صلاحیت کے 40 فیصد سے نیچے آ گیا ہے۔ وہیں کئی بڑے دریا میں بھی پانی کی سطح میں کمی درج کی گئی ہے، جس سے پانی کے بگڑتے ہوئے علاقائی عدم توازن کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

Published: undefined

سنٹرل واٹر کمیشن کے ہفتہ وار بلیٹن کے مطابق ملک کے 166 آبی ذخائر میں کل لائیو ذخیرہ کم ہو کر 71.082 ارب گھن میٹر (بی سی ایم) رہ گیا ہے، جو ان کی کل صلاحیت 183.565 بی سی ایم کا صرف 38.72 فیصد ہے۔ 9 اپریل 2026 کو یہ سطح 44.71 فیصد تھی یعنی 3 ہفتوں میں قابل ذکر کمی درج کی گئی ہے۔ یہ 166 آبی ذخائر ملک کی 257,812 بی سی ایم آبی ذخیرہ کرنے کی کل تخمینہ صلاحیت کا تقریباً 71.20 فیصد رکھتے ہیں۔ ان میں سے 20 آبی ذخائر ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے جڑے ہوئے ہیں جن کی مشترکہ صلاحیت 35,299 بی سی ایم  ہے۔

Published: undefined

سنٹرل واٹر کمیشن کے مطابق اپریل کے آغاز کے مقابلے میں کئی بڑے دریا کے طاسوں میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے۔ گنگا طاس 53.8 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 50.01 فیصد رہ گیا ہے۔ گوداوری 47.58 فیصد سے کم ہو کر 40.69 فیصد اور نرمدا 46.09 فیصد سے کم ہو کر 38.82 فیصد پہنچ گئی ہے۔ کرشنا طاس پہلے سے ہی کمزور حالت میں تھی اور اب بھی تقریباً 22.55 فیصد پر ہے۔ کاویری (اب 35.74 فیصد) اور مہاندی (43.51 فیصد) میں بھی کمی درج کی گئی ہے جب کہ تاپتی نسبتاً مستحکم حالت میں برقرار ہے۔

Published: undefined

مدھیہ پردیش کے آبی ذخائر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وہیں گوا میں صرف ایک اہم ذخیرہ ہونے کے باوجود وہاں بھی 12 فیصد سے زیادہ کمی درج کی گئی ہے جو مقامی پانی کی دستیابی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ ملک بھر کے کئی بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

Published: undefined

آسام کا کھانڈونگ آبی ذخیرہ تقریباً 21.16 فیصد پر ہے جب کہ جھارکھنڈ کا چندن ڈیم مکمل طور پر خالی ہوگیا ہے۔ کرناٹک کا تتہلہ 24.63 فیصد، کیرالہ کا پیریار 29.21 فیصد، تمل ناڈو کا وائیگئی 15.17 فیصد، کرائیار 49.89 فیصد نیچے ہے۔ مجموعی طور پر 166 آبی ذخائر میں سے 22 ایسے ہیں جہاں پانی کی سطح معمول سے 80 فیصد کم ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined