
قائد حزب اختلاف راہل گاندھی / ویڈیو گریب
’’پہلے شیوسینا، پھر این سی پی اور اب ترنمول کانگریس۔ ہر بار ایک ہی پیٹرن۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر ایک پارٹی کو توڑتے ہیں، پھر اس کا انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے۔ جب پوری کی پوری پارٹی چوری ہو سکتی ہے، تو کروڑوں ہندوستانیوں کے ووٹ چوری ہونا بھی حیرانی کی بات نہیں۔‘‘ یہ تلخ تبصرہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کے بعد کیا ہے، جس میں ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔
دراصل مغربی بنگال میں ضمنی اسمبلی انتخاب ہونا ہے، اور اس سے عین قبل الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے دونوں ہی گروپوں کو نئے نام اور نئے انتخابی نشان کے ساتھ اپنے امیدوار کھڑے کرنے ہوں گے۔ یعنی ترنمول کانگریس کا نام اور ’2 پھول و گھاس‘ والا انتخابی نشان استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ اس فیصلہ پر راہل گاندھی نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری۔ یہ ہمارے جمہوری زوال کی علامت بن گئے ہیں۔‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں راہل گاندھی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری مینڈیٹ کی حفاظت کرنا ہے، لیکن اس کے برعکس وہ ان طاقتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے فیصلہ کو ہی پلٹ دیتے ہیں۔ انھوں نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی کے ساتھ اپنی یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ صرف ممتا بنرجی کی نہیں ہے، یہ ہر سیاسی پارٹی، ہر ووٹر کی جنگ ہے، جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب چاہتا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔