قومی خبریں

عطیات چوری معاملے میں ’وی ایچ پی‘ کا اپوزیشن لیڈران کو نشانہ بنانا ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ کے مترادف: کے سی وینوگوپال

کے سی وینوگوپال نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’اگر وی ایچ پی کو واقعی رام مندر کے تقدس کی فکر ہے تو اس نے اپنی ہی تنظیم کے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا، جنہوں نے یہ بڑا گھوٹالہ کیا؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال،&nbsp;تصویر آئی اے این ایس</p></div>

کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال، تصویر آئی اے این ایس

 

رام مندر عطیہ چوری معاملے کو لے کر اپوزیشن نے ایک بار پھر حکومت اور ہندو تنظیموں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ کر کے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کو گھیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عطیات چوری معاملے میں اپوزیشن لیڈران کو نشانہ بنانے والا وی ایچ پی کا خط ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ والے محاورے جیسا ہے۔

Published: undefined

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کے سی وینوگوپال لکھتے ہیں کہ ’’وی ایچ پی پر پہلے نرموہی اکھاڑا نے 1400 کروڑ روپے کے رام مندر گھوٹالے کا الزام عائد کیا تھا اور اب ان اپوزیشن لیڈران سے پوچھ تاچھ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جنہوں نے مبینہ لوٹ پر سوال اٹھائے تھے۔ یہ مطالبہ جتنا بے تکا ہے، اتنا ہی شرمناک بھی ہے۔ خود تحقیقات کے دائرے میں ہونے کے باعث وی ایچ پی کے پاس اپوزیشن پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔‘‘

Published: undefined

کے سی وینوگوپال اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’مندر ٹرسٹ کی تشکیل وزیر اعظم مودی نے کی تھی۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے، وی ایچ پی کے نائب صدر اور آر ایس ایس کے پرچارک بھی ہیں۔ ٹرسٹ کے صدر ہندوستانی وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ہیں، جنہیں بی جے پی نے پدم بھوشن سے نوازا ہے۔ اس کے علاوہ مرکز اور ریاست دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے۔ ایسے میں پرینکا جی اور اکھلیش جی یا دیگر اپوزیشن لیڈران کا اس معاملے سے آخر کیا تعلق بنتا ہے؟‘‘

Published: undefined

کے سی وینوگوپال کا کہنا ہے کہ ’’سچ تو یہ ہے کہ وی ایچ پی اور سنگھ پریوار کی ساکھ پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔ متنازعہ رام مندر تحریک طویل عرصے سے چندہ چوری کے الزامات کی زد میں رہی ہے اور حالیہ رپورٹس نے ایک بار پھر انکشاف کیا ہے کہ ہندوؤں کے ان نام نہاد محافظوں کا مذہب یا بھگوان رام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ صرف بھکتوں کی عقیدت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اگر وی ایچ پی کو واقعی رام مندر کے تقدس کی فکر ہے تو اس نے اپنی ہی تنظیم کے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا، جنہوں نے یہ بڑا گھوٹالہ کیا؟ وہ بی جے پی کی اس قیادت پر خاموش کیوں ہیں جس نے مندر کی تعمیر کا پورا کریڈٹ لیا تھا، لیکن اب جب ان کا مقرر کردہ ٹرسٹ خود تحقیقات کے گھیرے میں ہے تو وہ کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں؟‘‘

Published: undefined

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’شرمندہ ہونے کے بعد وہ اب تماشہ کھڑا کرنے، معصومیت کا دکھاوا کرنے، حقائق کو توڑنے مروڑنے، ناقدین کو ڈرانے دھمکانے اور توجہ بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی اپنی اخلاقی گراوٹ بے نقاب نہ ہو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم ایک آزاد اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔ موجودہ ایس آئی ٹی رام مندر کو لوٹنے والوں کو بچانے کے لیے بنایا گیا محض ایک دکھاوٹی نظام ہے۔‘‘

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined