
تصویر سوشل میڈیا
اترا کاشی: اتراکھنڈ کے مشہور سیاحتی مقام دیارا بگیال ٹریک سے 24 سالہ ببیتا پانڈے نامی خاتون پراسرار حالات میں غائب ہو گئی ہیں۔ ان کی گمشدگی کے بعد پولیس، ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس، قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس، نہرو کوہ پیمائی ادارہ، محکمہ مال اور محکمہ جنگلات کی مشترکہ ٹیمیں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن چلا رہی ہیں۔ تلاش کے عمل میں اب ہیلی کاپٹر کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاہم اب تک لاپتا خاتون کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
Published: undefined
پولیس کے مطابق ضلع نینی تال کے رام نگر علاقے کے چلکیا گاؤں کی رہائشی ببیتا پانڈے 29 مئی کو اپنے دو ساتھیوں ہرمن پریت سنگھ اور ہرمن پال کے ساتھ دیارا بگیال ٹریک پر گئی تھیں۔ تینوں نے اسی رات گوئی بیس کیمپ میں قیام کیا تھا۔ ساتھیوں کے بیان کے مطابق رات کے وقت ببیتا پانڈے خیمے سے باہر نکلیں اور اس کے بعد واپس نہیں آئیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا۔ 31 مئی کو ببیتا پانڈے کے بھائی کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے دونوں ساتھیوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کی جانچ جاری ہے، تاہم اب تک کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
Published: undefined
سرچ آپریشن میں شامل ٹیمیں دیارا بگیال اور اس کے اطراف موجود جنگلات، گہری کھائیوں، ندی نالوں، چٹانی علاقوں، جھاڑیوں اور دیگر دشوار گزار مقامات کی باریک بینی سے تلاشی لے رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کا جغرافیہ انتہائی پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے تلاش کا عمل مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
اتوار کو اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے پورے دیارا ٹریک اور ملحقہ علاقوں کا فضائی سروے بھی کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ایسے مقامات کا جائزہ لینا تھا جہاں زمینی ٹیموں کی رسائی محدود ہے۔ تاہم فضائی معائنے کے باوجود کوئی اہم سراغ ہاتھ نہیں آیا۔
Published: undefined
پولیس سپرنٹنڈنٹ کملیش اپادھیائے مسلسل سرچ آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جنک سنگھ پنوار موقع پر موجود رہ کر مختلف اداروں کے درمیان رابطہ اور ریسکیو سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
ادھر ٹریکنگ پرمٹ سے متعلق بعض مبینہ بے ضابطگیوں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دستاویزات میں سامنے آنے والی ممکنہ خامیوں کا جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق ببیتا پانڈے کی محفوظ بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined