قومی خبریں

اترپردیش: ’سی ایم ہیلپ لائن‘ ملازمین کا لکھنؤ میں احتجاج، استحصال کا الزام

احتجاج کر رہے ملازمین کا الزام ہے کہ ہیلپ لائن میں ان کا استحصال کیا جا رہا ہے اور انہیں صرف 7000 روپے تنخواہ دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان میں شدید ناراضگی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مظاہرین کو روکنے کے لیے تعینات پولیس (ویڈیو گریب)</p></div>

مظاہرین کو روکنے کے لیے تعینات پولیس (ویڈیو گریب)

 

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ’سی ایم ہیلپ لائن‘ ملازمین کا زبردست احتجاج دیکھنے کو ملا، جہاں 200 سے زائد ملازمین ’1076 ہائے ہائے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اچانک وزیر اعلیٰ کے دفتر کی طرف چلے گئے۔ صبح تقریباً 9:30 بجے لوہیا پتھ سے شروع ہونے والا یہ مارچ تیزی سے آگے بڑھا، جسے روکنے کے لیے پولیس نے 4 بار کوشش کی لیکن ملازمین نہیں رکے۔ لوہیا پارک تک پولیس انہیں روکنے میں ناکام رہی، جس کے بعد اضافی فورس تعینات کر دی گئی۔

Published: undefined

سنگیت ناٹک اکادمی کے سامنے پولیس نے بیریکیڈنگ کر کے راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود ملازمین آگے بڑھتے رہے۔ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے بعد میں طاقت کے استعمال کے ذریعہ ہٹانے کی کارروائی شروع کی۔ احتجاج کر رہے ملازمین کا الزام ہے کہ ہیلپ لائن میں ان کا استحصال کیا جا رہا ہے اور انہیں صرف 7000 روپے تنخواہ دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان میں شدید ناراضگی ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ اترپردیش میں سی ایم ہیلپ لائن (1076) آئی جی آر ایس (انٹیگریٹڈ گریونس ریڈریسل سسٹم) کے تحت ایک مرکزی شکایات کے ازالے کے نظام کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسے 24×7 فعال کال سنٹر پر مبنی پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جہاں لوگ فون، آن لائن ذرائع اور مختلف سرکاری حوالہ جات کے ذریعہ اپنی شکایت درج کر سکتے ہیں، معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور تجاویز دے سکتے ہیں۔ یہ نظام شکایتوں کو ایک طے شدہ انتظامی ڈھانچے کے تحت لیول 1 سے لیول 4 تک متعلقہ افسران - جیسے بلاک، تحصیل، ضلع کی سطح کے افسران سے لے کر ڈی ایم، ایس ایس پی اور کمشنر تک - بھیجتا ہے۔

Published: undefined

اس کے تحت ہر شکایت کو ڈیجیٹل طور پر ٹریک کیا جاتا ہے، مقررہ وقت کے اندر اس کا ازالہ کیا جاتا ہے، اور اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا یا شکایت کنندہ مطمئن نہیں ہوتا، تو اسے خود بخود اعلیٰ سطح پر بھیج دیا جاتا ہے۔ اس ماڈل میں فیڈ بیک کا نظام، کارکردگی کی نگرانی اور جزوی، اطمینان بخش یا خصوصی تصفیہ جیسی سہولیات شامل ہیں۔ ضلع انتظامیہ، نوڈل افسران اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین اس کی نگرانی، تربیت اور موثر نفاذ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاکہ مختلف محکموں میں شفافیت، جوابدہی اور شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined