
واشنگٹن: شہریت ترمیمی بل کے لوک سبھا سے منظور ہونے کے بعد جہاں ایک طرف ملک میں حزب اختلاف کی جماعتیں اور عوام سراپا احتجاج ہیں اور حکومت کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں وہیں دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کی بدنامی ہونے لگی ہے۔ امریکہ کے ایک ادارے نے تو امت شاہ پر پابندی تک عائد کرنے کا مطالبہ کر ڈالا ہے۔ امریکہ کے فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں شہریت ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد امریکی حکومت ہندوستان کے وزیرداخلہ امت شاہ پرپابندی عائد کرے۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکہ کے فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے ہندوستانی لوک سبھا میں شہریت کے متنازع ترمیمی بل کی منظوری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا اس متنازع بل کی ہندوستان کے ایوان میں منظوری تشویش کا باعث ہے اور امریکی حکومت کو چاہئے کہ وہ بل کو پیش کرنے والے ہندوستانی وزیرداخلہ امت شاہ پرپابندی لگائے۔
Published: undefined
امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پرمسلمانوں کوبل میں شامل نہیں کیا گیا اور یہ بل غلط سمت میں خطرناک قدم ہے ۔ نیز حکومت ہند ایک عشرے سے کمیشن کی رپورٹوں کو نظراندازکررہی ہے۔ ادھر، ہندوستانی وزارت خارجہ کی جانب سے امریکی ادارے ’فیڈرل کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی‘ کے بیان کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی بل سے متعلق یو ایس سی آئی آر ایف کا بیان درست نہیں ہے اور یہ بلاضرورت دیا گیا بیان ہے۔
Published: undefined
وزارت خارجہ نے مزید کہا، شہریت ترمیمی بل پڑوسی ممالک سے ہندوستان میں موجود مظلوم مذہبی اقلیتوں کو فوری طور پر راحت فراہم کرنے کے لئے ہے۔ یہ ان کی موجودہ مشکلات کو دور کرنے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نیز نہ تو شہرت ترمیمی بل اور نہ ہی این آر سی (قومی شہریت رجسٹر) عمل کسی بھی عقیدے کے ہندوستانی سے اس کی شہریت چھیننے کی کوشش نہیں کرتے۔ امریکہ سمیت ہر ملک کو اپنی شہریت دینے اور توثیق کرنے کا حق ہے اور اس کے لئے مختلف پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined