
ایس آئی آر (علامتی تصویر، اے آئی)
مغربی بنگال میں ’ایس آئی آر‘ کا معاملہ مستقل سرخیوں میں ہے۔ کئی علاقوں میں نہ صرف ووٹرس پریشان ہیں، بلکہ بی ایل او بھی مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مرشد آباد ضلع کے فرخہ بلاک میں تو حالات لگاتار کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ایس آئی آر کے نام پر عام لوگوں کو پریشان کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے فرخہ بلاک کے سبھی بوتھ لیول افسران (بی ایل او) نے ایک ساتھ اجتماعی استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ بدھ کی صبح فرخہ بلاک الیکشن افسر یعنی ای آر او کے حوالے کر دیا گیا۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 50 بی ایل او نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ بی ایل او کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے بغیر کسی واضح گائیڈلائن کے بار بار واٹس ایپ کے ذریعہ الگ الگ طرح کی ہدایات بھیجی جا رہی ہیں۔ پہلے کہا گیا تھا کہ صرف فارم بھرنے سے ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو جائے گا، لیکن بعد میں سماعت کے نام پر عام لوگوں کو بار بار فون کر بلایا جانے لگا۔
Published: undefined
بتایا جا رہا ہے کہ ایس آئی آر کے بعد ہوئی سماعت کے دوران فرخہ بی ڈی او دفتر میں توڑ پھوڑ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس میں تقریباً 30 بی ایل او کے ایک نمائندہ وفد نے ایس آئی آر کے عمل میں موجود خامیوں پر اپنے اعتراضات ظاہر کیے۔ یہ نمائندہ وفد فرخہ کے ترنمول کانگریس رکن اسمبلی منیر الاسلام کی قیادت میں پہنچا تھا۔ اسی دوران ماحول خراب ہو گیا اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی۔ ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ ویڈیوز میں رکن اسمبلی کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ اگر کوئی اپنا نام ’رام‘ بتاتا ہے تو اس سے کوئی دستاویز نہیں مانگے جاتے، لیکن اگر کوئی اپنا نام ’رحیم‘ بتاتا ہے تو اسے پریشان کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
بی ایل او کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کے موجودہ عمل سے کئی اہل ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے کٹنے کا خطرہ ہے۔ جن لوگوں کے 6 بچے ہیں، ان سے بھی سوال پوچھے جا رہے ہیں، جبکہ آئین میں بچوں کی تعداد کو لے کر کوئی اصول نہیں ہے۔ بی ایل او نے کہا کہ وہ سبھی پیشے سے اسکول ٹیچر ہیں اور اسکول کی ذمہ داری کے ساتھ یہ اضافی اور الجھانے والا کام کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ بی ایل او کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ ناانصافی اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ دار نبھانے میں نااہلی کے سبب انھیں عوامی طور پر استعفیٰ دینا پڑا۔ اس پورے واقعہ سے فرخہ بلاک کے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined