
علامتی تصویر / اے آئی
اتر پردیش میں اب صرف شہروں ہی نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی مکان تعمیر کرنے کے قواعد مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ نئی ہدایات کے مطابق دیہی علاقوں میں 300 مربع میٹر رقبے پر 3 منزلہ مکان یا اس سے بڑی عمارت تعمیر کرنے سے پہلے ضلع پنچایت سے نقشہ منظور کرانا لازمی ہوگا۔ اس سلسلے میں ضلع پنچایتوں نے اتر پردیش عمارت تعمیر و ترقی ذیلی ضوابط-2025 نافذ کر دیے ہیں۔
اب تک نقشہ منظور کرانے کی شرط بنیادی طور پر ترقیاتی اداروں، میونسپل کارپوریشنوں اور ٹاؤن ایریا میں نافذ تھی، لیکن نئی پالیسی کے بعد اس کا دائرہ دیہی علاقوں تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق ضلع پنچایت کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں رہائشی، تعلیمی، تجارتی عمارتوں اور کسی بھی قسم کی پلاٹنگ کے لیے متعلقہ نقشے کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ تاہم حکومت نے عام شہریوں کو کچھ راحت بھی دی ہے۔ اگر کوئی شخص 300 مربع میٹر تک کے پلاٹ پر صرف دو منزلہ مکان تعمیر کرتا ہے تو اسے نقشہ منظور کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ شرط صرف 300 مربع میٹر سے زیادہ رقبے یا تین منزلہ اور اس سے بلند عمارتوں پر لاگو ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان نئے ضوابط کا مقصد عمارتوں کی تعمیر کے عمل کو زیادہ شفاف، منظم اور آسان بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی تعمیرات اور بدعنوانی پر قابو پانے، منصوبہ بند ترقی کو فروغ دینے اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی اس پالیسی کے اہم مقاصد میں شامل ہیں۔
ریاستی حکومت نے حال ہی میں اتر پردیش ترقیاتی ادارہ عمارت تعمیر و ترقی ذیلی ضوابط-2025 کو منظوری دی تھی، جس کے بعد ترقیاتی اداروں سے باہر واقع دیہی اور نیم شہری علاقوں کے لیے بھی یکساں نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ضلع پنچایت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسی کالونیوں یا پلاٹنگ میں تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی جن کا لے آؤٹ منظور شدہ نہ ہو۔ اگر کوئی شخص غیر منظور شدہ کالونی میں مکان تعمیر کرنا چاہے تو اس کا نقشہ پاس نہیں کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ایسے پلاٹوں پر تعمیر کیے جانے والے مکانات کے لیے بینکوں سے ہاؤسنگ لون حاصل کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ بجلی کا نیا کنکشن دینے میں بھی دشواری پیش آئے گی، کیونکہ متعلقہ منظوری نہ ہونے کی صورت میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی محدود رہے گی۔
حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ مکان کی تعمیر شروع کرنے سے پہلے زمین کی قانونی حیثیت، کالونی کے منظور شدہ لے آؤٹ اور ضلع پنچایت سے درکار منظوری کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر لیں، تاکہ بعد میں قانونی یا مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔