قومی خبریں

ووٹر لسٹ کی غلطی پر اقلیت کے حوالہ والی طنزیہ پوسٹ کا معاملہ، یوپی کے چیف الیکٹورل افسر نے مانگی معافی

یوپی کے چیف الیکٹورل افسر نے ووٹر پرچی میں والد کے نام کی غلطی پر اقلیت کا حوالہ پر مبنی طنزیہ پوسٹ کی زبان پر معافی مانگی اور آئندہ مہذب، رسمی ابلاغ کا وعدہ کیا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل سے کی گئی پوسٹ کے تلخ اور طنزیہ لہجہ پر عوامی معذرت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ انداز سرکاری ہینڈل سے متوقع ابلاغ کے مطابق نہیں تھا۔ پوسٹ سے پیدا ہونے والی حقیقی ناراضگی کو تسلیم کرتے ہوئے دل آزاری کا شکار افراد سے مخلصانہ معافی مانگی گئی۔ افسر نے آئندہ گفتگو مہذب اور رسمی رکھنے کا وعدہ کیا اور اس نوعیت کی زبان سے گریز کا عندیہ بھی دیا۔

تنازع حالیہ قانون ساز کونسل انتخابات کی ووٹر فہرست کے ایک غیر معمولی اندراج سے جڑا ہے۔ فراہم کردہ تصویر میں الہ آباد-جھانسی گریجویٹ حلقے کی 2026 کی ووٹر پرچی دکھائی دیتی ہے۔ ووٹر روی شرما کے نام کے نیچے والد کے نام والے خانے میں ’رام نے شرما کو مارا‘ درج ہے۔

اس سے پہلے فہرست میں ’رام نے یادو کو مارا‘ جیسے دوسرے عجیب اندراجات بھی زیر بحث آئے۔ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے پوچھا کہ اس غلطی میں یادو ہی کیوں آیا، دوسری ذاتوں کے نام کیوں نہیں، اور کیا کمپیوٹر ذات پرست ہے۔ جواب میں سی ای او کے سرکاری ہینڈل نے ’رام نے شرما کو مارا‘ والی پرچی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر یا سافٹ ویئر ذات پرست نہیں ہوتا اور غلطی کے باوجود ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہوا۔ لیکن پوسٹ میں یہ بھی لکھا تھا، ’’شکر ہے رام نے کسی اقلیت کو نہیں مارا، ورنہ فرقہ وارانہ ہونے کا الزام لگتا۔‘‘

اسی جملے کو نامناسب کہتے ہوئے ناقدین نے سوال اٹھایا کہ انتخابی ادارے کے سرکاری اکاؤنٹ کو ذات اور مذہب جیسے حساس معاملات پر ایسا طنز کرنا چاہیے۔ حکام کی ابتدائی وضاحت کے مطابق بعض انگریزی ناموں کو ہندی میں صوتی طور پر لکھنے کے بجائے سافٹ ویئر نے لفظی ترجمہ کر دیا۔ مثال کے طور پر ’رام ہِت یادو‘ کو درج کیا گیا تو سافٹ ویئر نے اس میں موجود ہت کو غلطی سے انگریزی کا لفظ ’ہٹ‘ سمجھ لیا جس کا معنی مارنا بھی ہوتا ہے، لہذا اس نے ہندی میں یوں لکھ دیا، ’رام نے یادو کو مارا‘۔

ایک رپورٹ کے مطابق 14 لاکھ 81 ہزار سے زائد اندراجات میں 158 ایسی غلطیاں سامنے آئیں۔ حکام نے وجوہ کی جانچ اور ایسی غلطیوں کی روک تھام کے اقدامات کی بات کی ہے۔ معافی کے بیان میں پوسٹ کے الفاظ اور لہجہ پر افسوس کیا گیا، تاہم مخصوص ذمہ داروں یا تادیبی کارروائی کی تفصیل نہیں دی گئی۔ انتخابی حکام کے مطابق فہرست کی دفتری غلطی سے کسی اہل ووٹر کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جائے گا؛ پولنگ مرکز پر شناخت کی تصدیق ہونے پر اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔