
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے گجرت کے مشہور ’اونا واقعہ‘ کے 10 سال مکمل ہونے پر مرکز کی مودی حکومت اور گجرات کی بی جے پی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ اور ’یوٹیوب‘ کے ذریعہ اپنی بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اونا کی چیخیں آج بھی انصاف کے لیے تڑپ رہی ہیں اور متاثرہ خاندان گزشتہ ایک دہائی سے انصاف کی امید میں در در بھٹکنے پر مجبور ہیں۔‘‘ انہوں نے گجرات حکومت کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ ’تذلیل، تشدد اور قتل‘ ہی اب کڑوی حقیقت بن چکی ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق انصاف میں یہ تاخیر نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ راہل گاندھی نے گجرات سے آئے دلت اور قبائلی برادریوں کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے ’ایکس‘ اور ’یوٹیوب‘ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے ’انتہائی تکلیف دہ اور فکر انگیز‘ قرار دیا۔ اس سے قبل وفد نے راہل گاندھی کو گجرات میں دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ ہو رہے مبینہ امتیازی سلوک اور تشدد کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس گروپ میں 2016 کے ’اونا واقعہ‘ کے متاثرین اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ان طبقات کی آپ بیتی سن کر یہ صاف ہے کہ آئینی حقوق کو کچلا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اتنے طویل عرصے بعد بھی مجرمین کو سزا اور متاثرین کو عزت کیوں نہیں ملی؟
Published: undefined
اپنی پوسٹ میں راہل گاندھی نے براہ راست وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’گجرات کا جو ماڈل پیش کیا جاتا ہے، وہ اصل میں ناانصافی پر مبنی اور غیر آئینی ہے۔‘‘ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اسی ناقص ماڈل کو اب پورے ملک پر تھوپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی کا ماننا ہے کہ آئینی اقدار کو بالائے طاق رکھ کر ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح پیغام دیا کہ کانگریس پارٹی دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کے حقوق کی آواز دبنے نہیں دے گی۔ انصاف کے دروازے پر دستک دینے کا سلسلہ تب تک نہیں تھمے گا، جب تک اونا جیسے واقعے کے متاثرین کو ان کا حق نہیں مل جاتا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مذکورہ معاملہ 11 جولائی 2016 کا ہے، جب اونا کے قریب 4 دلت نوجوان اپنے روایتی کام کے سلسلے میں ایک مردہ گائے کی کھال اتار رہے تھے۔ اسی دوران خود کو ’گؤ رکشک‘ بتانے والے کچھ لوگوں نے انہیں پکڑ لیا اور سر عام کوڑے مار کر پیٹا۔ ان نوجوانوں کو تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined