
تصویر سوشل میڈیا
جنیوا: اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکی فوج کی جانب سے کیریبین اور بحرالکاہل میں کشتیوں پر کیے گئے حالیہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان میں سے بعض واقعات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے ماورائے عدالت، فوری اور من مانے قتل بین سول کی جانب سے انسانی حقوق کونسل کے لیے جاری کردہ بریفنگ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر سے اب تک امریکی فوج نے کیریبین اور بحرالکاہل میں امریکی علاقائی سمندری حدود سے باہر کم از کم 68 حملے کیے، جن میں 223 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
سول کے مطابق اگرچہ امریکی حکام نے ان کارروائیوں میں نشانہ بننے والے افراد کو منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے یا نامزد دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد قرار دیا ہے، لیکن ان افراد کی جانب سے امریکہ کے خلاف ایسا کوئی مسلح حملہ کیے جانے کا ثبوت سامنے نہیں آیا جو بین الاقوامی قانون کے تحت امریکہ کے حقِ دفاع کو متحرک کرتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ حملے "ماورائے عدالت قتل" کے مسلسل واقعات کے مترادف ہو سکتے ہیں، کیونکہ انہیں قومی یا ذاتی دفاع، بین الاقوامی انسانی قانون، سمندری قانون، منشیات کی روک تھام سے متعلق عالمی معاہدوں یا بین الاقوامی انسداد دہشت گردی قانون کے تحت جائز قرار دینے کی بنیاد واضح نہیں ہے۔
سول نے نتیجہ اخذ کیا کہ رپورٹ کیے گئے 68 حملوں، جن میں 223 افراد ہلاک ہوئے، کے بارے میں یہ سمجھنے کے لیے معقول بنیاد موجود ہے کہ یہ واقعات روایتی بین الاقوامی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرم، یعنی قتل، کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے کیریبین میں ایک کشتی پر حالیہ حملے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق خفیہ معلومات سے معلوم ہوا تھا کہ کشتی منشیات کی اسمگلنگ میں فعال طور پر ملوث تھی اور کارروائی میں چار "نارکو دہشت گرد" مارے گئے۔ امریکی کمانڈ نے اس حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔
امریکی فوج کی جانب سے ان کارروائیوں کو منشیات کے اسمگلروں اور کارٹل نیٹ ورکس کے خلاف مہم قرار دیا گیا ہے۔ سدرن کمانڈ کے مطابق آپریشن "سدرن اسپیئر" کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے نیٹ ورکس کو تلاش کرنا، ان کی سرگرمیوں میں خلل ڈالنا اور انہیں ختم کرنا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں اور وہ منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں پر سرگرم تھیں۔ سدرن کمانڈ نے اس سے قبل بھی متعدد کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کو "نارکو دہشت گرد" قرار دیا ہے۔
تاہم، ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر ابتدا ہی سے ماہرین اور بعض لاطینی امریکی رہنماؤں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی تازہ رپورٹ نے بھی اسی قانونی سوال کو مرکزی حیثیت دی ہے کہ کیا منشیات کی اسمگلنگ کے شبہے میں بین الاقوامی سمندری حدود میں افراد کو براہ راست مہلک حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام نے ماضی میں ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد خطے میں منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور امریکی شہریوں کو منشیات سے لاحق خطرے سے محفوظ رکھنا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی اس تازہ رپورٹ پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔