
پانی کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
بھوپال: مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے علاقے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے کے باعث مزید دو افراد کی موت ہو گئی ہے، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اندور کو ملک کا سب سے صاف شہر قرار دیا جاتا رہا ہے، مگر اسی شہر میں آلودہ پانی کے سبب قیمتی جانیں ضائع ہونا تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق پیر کی رات 75 سالہ شالیگرام ٹھاکر اور منگل کی صبح دو سالہ ریا پرجاپتی نے دم توڑ دیا۔ شالیگرام ٹھاکر کی بیٹی مونا ٹھاکر نے بتایا کہ ان کے والد کو قے اور دست کی شکایت کے بعد 2 جنوری کو شیلبی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں بمبئی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کچھ دن زیر علاج رہنے کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ مونا کے مطابق 18 برس قبل شالیگرام کو فالج کا حملہ ہوا تھا تاہم اس کے علاوہ انہیں کوئی سنگین عارضہ لاحق نہیں تھا۔ دوسری جانب بامبے اسپتال کے جنرل منیجر راہل پراشر نے کہا کہ مریض کو دل سے متعلق مسئلہ بھی درپیش تھا۔
Published: undefined
دو سالہ ریا پرجاپتی کو بھی تقریباً دو ہفتے قبل قے اور دست کی شکایت کے باعث چچا نہرو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں منگل کی صبح اس کی موت واقع ہو گئی۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں اچانک بڑی تعداد میں لوگ بیمار پڑ گئے تھے، جن میں بچے اور بزرگ شامل تھے اور تب سے یہ سلسلہ جاری ہے۔
اپوزیشن جماعت کانگریس نے ان اموات کو آلودہ پینے کے پانی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اندور میں کم از کم 35 افراد آلودہ پانی کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں اور تازہ اموات نہایت افسوسناک ہیں۔
Published: undefined
تاہم ریاستی انتظامیہ نے ان دو نئی اموات کے سلسلے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اس دوران مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھاگیرتھ پورہ میں پانی کے آلودہ ہونے اور اس کے عوامی صحت پر اثرات کی جانچ کے لیے ایک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ عدالت نے متاثرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے بیانات اور شواہد کمیشن کے سامنے پیش کریں تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined