قومی خبریں

مہاراشٹر ایف ڈی اے اور ایف ایس ایس اے آئی کے مابین اختیارات کی جنگ، بامبے ہائی کورٹ پہنچا معاملہ

مہاراشٹر حکومت نے ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) کے بعض ضوابط اور احکامات کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بامبے ہائی کورٹ</p></div>

بامبے ہائی کورٹ

 

خوراک کاروباروں کے لائسنس اور جانچ کے اختیارات کو لے کر مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان تنازعہ سامنے آیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) کے بعض ضوابط اور احکامات کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی قانون کے تحت ریاست میں خوراک کے کاروباروں کی جانچ اور لائسنس سے متعلق کئی اختیارات مہاراشٹر ایف ڈی اے یعنی ریاستی حکام کے پاس ہیں، لیکن ریاست کا الزام ہے کہ ایف ایس ایس اے آئی نے نئے ضوابط اور احکامات کے ذریعے ان اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے۔ اس سے ریاستی فوڈ سیفٹی افسران کے اختیارات متاثر ہو رہے ہیں۔

ریاستی حکومت نے ایف ایس ایس اے آئی کے 12 مئی 2023 کے حکم پر اعتراض کیا ہے۔ الزام ہے کہ اس حکم کی وجہ سے ریاستی فوڈ سیفٹی افسران کے لیے مرکزی لائسنس رکھنے والے کاروباروں کی جانچ پر پابندی لگ گئی۔ ریاست کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی کی جانچ کے لیے اس کے افسران کو بھی ضروری اختیارات ملنے چاہئیں۔ ریاستی حکومت نے ’فوسکوس‘ (ایف او ایس سی او ایس) نامی آن لائن پورٹل پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ اس پورٹل کا استعمال خوراک کے کاروباروں کے رجسٹریشن اور لائسنس سے متعلق کاموں کے لیے کیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت کا الزام ہے کہ اس نظام کے ذریعے لائسنس جاری کرنے کا اختیار زیادہ تر مرکز کے پاس چلا گیا ہے۔

ایف ایس ایس اے آئی کے حکم کے مطابق یکم اپریل 2026 سے خوراک کے کاروباروں کے سالانہ ٹرن اوور کی بنیاد پر لائسنس کے ضوابط میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جو کہ کچھ اس طریقے سے ہے:

  • 1.5 کروڑ روپے تک: رجسٹریشن

  • 1.5 کروڑ روپے سے زیادہ اور 50 کروڑ تک: ریاستی لائسنس

  • 50 کروڑ روپے سے زیادہ: مرکزی لائسنس

    ان تبدیلیوں اور متعلقہ ضوابط پر ریاستی حکومت کا مبینہ اعتراض بھی اس تنازعہ کا حصہ ہے۔

اطلاع کے مطابق مہاراشٹر حکومت نے عدالت سے 3 اہم مطالبات کیے ہیں۔ پہلا جن ضوابط کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے، انہیں منسوخ کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ مئی 2023 کے اس حکم پر روک لگائی جائے، جس سے ریاستی افسران کے جانچ کے اختیارات متاثر ہونے کا الزام ہے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ لائسنس سے متعلق ڈاٹا ریاست کے متعلقہ افسران کو واپس سونپا جائے۔ اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ خوراک کے کاروباروں کی جانچ اور لائسنس جاری کرنے کے اختیارات مرکز اور ریاست کے درمیان کس طرح تقسیم ہونے چاہئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔