
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے بیان کی وجہ سے تنازعات میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ اس بار معاملہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ زبان استعمال کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ نہیں کیا تو اسے بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بیان کے بعد جب صحافیوں نے ان سے تنقید کے بارے میں سوال کیا تو ٹرمپ نے صاف طور پر کہا کہ انہیں تنقید کرنے والوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تنقید کرنے والوں کی پرواہ نہیں ہے۔ جب ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کچھ لوگ ان کی ذہنی صحت پر سوال اٹھا رہے ہیں تو انہوں نے اسے بھی نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ملک کو ان کے جیسے مزید لوگوں کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
ٹرمپ نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر بننے سے پہلے امریکہ کو تجارت سمیت کئی شعبوں میں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا لیکن انہوں نے صورتحال بدل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سخت پالیسی اور بیان بازی ہی امریکہ کے مفاد میں ہے۔ حالانکہ ان کے اس بیان کے بعد اپوزیشن اور کئی ناقدین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ خاص طور پر ایسٹر کے دن کی گئی ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کو لوگوں نے نفرت انگیز اور غیر مہذب قرار دیا۔ کچھ رہنماؤں نے تو یہاں تک مطالبہ کیا کہ ان کی کابینہ کو 25 ویں ترمیم کا استعمال کرکے انہیں عہدے سے ہٹانے پر غور کرنا چاہئے۔
Published: undefined
اس کشیدگی کے درمیان صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو امریکہ ایران کے تیل پر قبضہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ خود کو پہلے بزنس مین مانتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پہلے وینزویلا کے ساتھ تیل کے لیے شراکت داری کرچکا ہے، اس لیے ایران کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’جنگ جیتنے والے کو اس کا فائدہ ملنا چاہئے اور امریکہ کو بھی اس کا استعمال کرنا چاہئے‘۔ انہوں نے واضح طور پر اشارہ دیا کہ امریکہ اپنی سابقہ پالیسی سے انحراف اور جنگ کے بعد وسائل پر قبضہ کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
Published: undefined
اس دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے منگل رات 8 بجے ( ہندوستانی وقت کے مطابق بدھ صبح 5.30 بجے) تک کا وقت ہے۔ انہوں دھمکی دی کہ اگر اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو ایران میں’ نہ پل بچیں گے، نہ پاور پلانٹ‘اور ملک پتھر کے دور میں پہنچ جائے گا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران نے پہلے 7 دن کا وقت مانگا تھا لیکن امریکہ نے اسے 10 دن دیئے۔ اب یہ آخری حد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ’اہم مدت‘ ہے اور اب فیصلہ ایران کو ہی کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو جب تنازع شروع ہوا تو ایران زیادہ مضبوط تھا لیکن اب امریکہ نے اسے کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اقدامات گزشتہ 47 سالوں میں کئے جانے چاہئے تھے وہ اب کئے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined