قومی خبریں

مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے کمرے پر تنازعہ، ٹی ایم سی کا دھرنا، آواز دبانے کا الزام

مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے کمرے کی الاٹمنٹ پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ ترنمول کانگریس نے اسمبلی سیکریٹریٹ پر تاخیر کا الزام لگایا جبکہ سیکریٹریٹ نے دستاویزات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

مغربی بنگال اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن کے لیے کمرہ الاٹ نہ کیے جانے کے معاملے پر جمعہ کو ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ ترنمول کانگریس نے الزام لگایا کہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو اب تک کمرہ نہ دینا جمہوری اداروں کے کام کاج پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ اسی معاملے پر اسمبلی میں تعطل کی کیفیت پیدا ہوئی اور ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے لیے مجوزہ کمرے کے سامنے دھرنا دیا۔

Published: undefined

احتجاج میں ترنمول کانگریس کے منتخب کردہ اپوزیشن لیڈر شوبھندیب چٹوپادھیائے، سابق اسمبلی اسپیکر بیمان بنرجی، سابق وزیر پولک رائے اور اروپ رائے سمیت متعدد اراکین اسمبلی شریک ہوئے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ اقتدار میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور جمہوری اصولوں کے ساتھ ادارہ جاتی روایات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

ترنمول کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ اسمبلی جمہوریت کے تحفظ کا ادارہ ہے لیکن اس کے باوجود اپوزیشن لیڈر کو اب تک کمرہ الاٹ نہیں کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق اس کے اراکین اسمبلی کو اسمبلی کی لابی میں بیٹھنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے جمہوری نظام کے طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

Published: undefined

پارٹی کا کہنا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ اور اسمبلی اسپیکر کو باقاعدہ خط بھیج کر شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیے جانے کی اطلاع دی جا چکی ہے۔ ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا کہ تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے جانے کے باوجود معاملہ التوا میں رکھا گیا ہے۔

دوسری طرف اسمبلی سیکریٹریٹ سے وابستہ ذرائع نے اشارہ دیا کہ ابتدائی تجویز یا خط میں یہ واضح نہیں تھا کہ ترنمول کانگریس کے کتنے اراکین اسمبلی نے اس کی حمایت کی یا اس پر دستخط کیے، جس کی وجہ سے انتظامی اعتبار سے اس کی حیثیت پر سوال پیدا ہوئے۔

Published: undefined

اس اعتراض کے بعد ترنمول کانگریس اسمبلی پارٹی نے ایک نئی تجویز اسمبلی حکام کو پیش کی، جس پر پارٹی ذرائع کے مطابق 70 اراکین اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔

سابق اسمبلی اسپیکر بیمان بنرجی نے اسمبلی سیکریٹریٹ کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی اپوزیشن میں تھی، تب ایسی شرائط عائد نہیں کی گئی تھیں۔ ادھر ممتا بنرجی نے بھی دعویٰ کیا کہ اسمبلی اسپیکر کے انتخاب کے دوران شوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر مدعو کیا گیا تھا، جو ان کے عہدے کو تسلیم کیے جانے کے مترادف ہے۔

Published: undefined

بالی گنج سے رکن اسمبلی شوبھندیب چٹوپادھیائے نے خبردار کیا کہ اگر اپوزیشن لیڈر کے کمرے کی الاٹمنٹ میں تاخیر جاری رہی تو پارٹی کے اراکین اسمبلی اپنا احتجاج بھی جاری رکھیں گے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کو حالیہ انتخاب میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ 294 رکنی اسمبلی میں پارٹی صرف 80 نشستیں جیت سکی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 207 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined