
کلکتہ ہائی کورٹ
کلکتہ ہائی کورٹ نے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر رتبرت بنرجی کی تقرری کے معاملے میں فی الحال ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی کو عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے اسمبلی اسپیکر کے اپوزیشن لیڈر سے متعلق فیصلے پر کوئی روک نہیں لگائی۔ رتبرت بنرجی فی الحال اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 16 جون کو ہوگی۔ حالانکہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے سماعت کے دوران آج کلکتہ ہائی کورٹ نے پوچھا کہ کیا مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر کسی سیاسی جماعت کی رضامندی کے بغیر اپوزیشن لیڈر کو تسلیم کر سکتے ہیں؟
Published: undefined
ٹی ایم سی کی جانب سے باغی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر دی گئی منظوری کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے یہ جاننا چاہا کہ کیا اسپیکر کسی رکن اسمبلی کو اس کی اصل پارٹی کی مرضی کے خلاف اپوزیشن لیڈر کے طور پر تسلیم کر سکتے ہیں یا پھر اس معاملے میں متعلقہ سیاسی جماعت کی رائے اور باضابطہ فیصلے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ رتبرت بنرجی نے ٹی ایم سی کے 59 باغی اراکین اسمبلی کے ساتھ مل کر ایک الگ گروپ بنا لیا ہے، اور اسمبلی اسپیکر نے اس گروپ کو منظوری دیتے ہوئے رتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر کا درجہ دیا ہے۔ اسی فیصلے کے خلاف ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی کی جانب سے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل کلیان بندوپادھیائے نے اسپیکر کی کارروائی پر عبوری روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ رتبرت بنرجی کو تسلیم کرنا، اینٹی-ڈیفیکشن فریم ورک کے تحت سیاسی پارٹیوں اور قانون ساز پارٹیوں کو کنٹرول کرنے والے آئینی اصولوں کے خلاف تھا۔
Published: undefined
کلیان بندوپادھیائے نے عدالت کو بتایا کہ منتخب اراکین اسمبلی کی ایک میٹنگ 6 مئی کو ہوئی تھی، جہاں سوبھندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے پارٹی کے امیدوار کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حمایت کرنے والے اراکین اسمبلی کے دستخط جمع کر کے سوبھندیب چٹوپادھیائے کے حق میں پیش کیے گئے تھے، اور اسپیکر کو پارٹی کے اس فیصلے کے بارے میں کئی بار بتایا کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، اسپیکر نے مبینہ طور پر 59 اراکین اسمبلی کی حمایت والے ایک مخالف گروپ کو منظوری دے دی۔
Published: undefined
سیاسی پارٹی کے انضمام اور مہاراشٹر کے سیاسی بحران سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سینئر وکیل کلیان بندوپادھیائے نے دلیل دی کہ آئین کا دسواں شیڈول صرف قانون ساز پارٹی کے بجائے سیاسی پارٹی کو ترجیح دیتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ٹی ایم سی میں پھوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ قانون ساز پارٹی میں ٹوٹ کے بعد اب پارلیمانی پارٹی بھی بکھرنے کے دہانے پر ہے اور ٹی ایم سی کے 3 راجیہ سبھا اراکین بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined