
ایران کے خارگ جزیرے کے قریب ایک اور مشتبہ تیل رساؤ سامنے آنے کے بعد خلیجی خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ سمندری نگرانی کرنے والی کمپنی ’ونڈورڈ اے آئی‘ کے مطابق یہ دوسرا تیل کا دھبہ ایسے وقت دیکھا گیا ہے، جب 8 مئی کو ملنے والا بڑا تیل رساؤ مسلسل سعودی عرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ماحولیات کے لیے ایک بڑا بحران بن سکتا ہے۔
نیا تیل رساؤ اتوار کی صبح تقریباً 11 بجے دیکھا گیا۔ اس کا پھیلاؤ تقریباً 12 سے 20 مربع کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے ملنے والا بڑا تیل رساؤ تقریباً 65 مربع کلومیٹر علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس میں ہزاروں بیرل خام تیل شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تیل تقریباً 4 دنوں میں قطر کے سمندری علاقے تک پہنچ سکتا ہے اور تقریباً 13 دنوں میں یو اے ای کے المرفا علاقے کے قریب ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined