قومی خبریں

وزیر اعلیٰ بننے والے اس لئے پریشان ہیں، کیونکہ کب چلے جائیں بھروسہ نہیں! گڈکری

نتن گڈکری نے راجستھان میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ آج کل ہر کوئی دکھی ہے، ایم ایل اے اس لیے دکھی ہیں کہ وہ وزیر نہیں بن سکے اور وزیر اعلیٰ اس لئے دکھی ہیں کیونکہ انہیں یقین نہیں کہ وہ کب چلے جائیں گے

نتن گڈکری / آئی اے این ایس
نتن گڈکری / آئی اے این ایس 

نئی دہلی: مرکزی وزیر نتن گڈکری اکثر اپنے بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ راجستھان کے جے پور میں انہوں نے ایک پروگرام کے دوران پھر کچھ ایسا کہا جس پر بحث ہو رہی ہے۔ نتن گڈکری نے کہا کہ جو لوگ وزیر اعلیٰ بنتے ہیں، وہ پریشان ہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ کب ہٹا دیا جائے۔

Published: undefined

دلچسپ بات یہ ہے کہ نتن گڈکری کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب بھوپندر پٹیل گجرات میں بطور وزیر اعلیٰ حلف اٹھا رہے تھے۔ بی جے پی نے وجے روپانی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ بھوپندر پٹیل کو لایا گیا ہے۔

نتن گڈکری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کل ہر ایک کو پریشانی ہے، ہر کوئی دکھی ہے۔ ایم ایل اے دکھی ہیں کیونکہ وہ وزیر نہیں بن سکے۔ وزیر دکھی ہے کیونکہ انہیں من پسند قلمدان نہیں ملا اور جنہیں من پسند قلمدان مل گیا وہ اس لئے دکھی ہیں کہ وزیر اعلیٰ نہیں بن سکے۔

Published: undefined

نتن گڈکری نے مزید کہا کہ جو لوگ وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے وہ اس لئے دکھی ہیں، کہ کب رہیں گے، کب جائیں گے، اس کا بھروسہ نہیں۔

نتن گڈکری نے راجستھان قانون ساز اسمبلی کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے یہاں کہا کہ سیاست کا بنیادی مقصد عام لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانا ہے لیکن آج کل اسے صرف اقتدار پر قبضہ کرنے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا بنیادی ہدف معاشرے کے آخری فرد کو فائدہ پہنچانا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کئی وزراء اعلیٰ کو اچانک تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے تیرتھ سنگھ راوت کو اتراکھنڈ میں ترویندر سنگھ راوت کی جگہ لایا گیا، بعد میں انہیں بھی ہٹا کر پشکر سنگھ دھامی کو لایا گیا، پھر کرناٹک میں بی ایس یدی یورپا کی جگہ بسوراج بومئی کو لایا گیا اور اب گجرات میں وجے روپانی کی جگہ بھوپندر پٹیل کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ وہیں، آسام میں انتخابات کے بعد اس بار سربانندا سونووال کی بجائے ہیمنت بسوا سرما کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined