قومی خبریں

’یہ ٹرین سب سے لمبی اور طاقتور‘، ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو پی ایم مودی نے دکھائی ہری جھنڈی

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہائیڈروجن ٹرین کو روانہ کرنے کے بعد کہا کہ یہ ٹرین 3200 ہارس پاور کی طاقت رکھتی ہے اور اس میں 10 کوچ ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں چلنے والی ٹرینوں میں محض 4-3 کوچ ہوتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ہائیڈروجن ٹرین، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/PIB_India">@PIB_India</a></p></div>

ہائیڈروجن ٹرین، تصویر ’ایکس‘ @PIB_India

 

ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ہریانہ کے جیند میں ہری جھنڈی دکھا کر اس ہائیڈروجن ٹرین کو روانہ کیا۔ یہ ٹرین جیند سے سونی پت کے درمیان چلے گی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان ان منتخب ممالک کے گروپ میں شامل ہو گیا ہے، جن کے پاس ہائیڈروجن توانائی سے چلنے والی ٹرینیں ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’آج جیند اور ہریانہ کا نام تاریخ کے صفحات میں درج ہو گیا ہے۔ آج یہاں ملک کو پہلی ہائیڈروجن ٹرین ملی ہے۔ ہندوستان میں پہلی ٹرین بمبئی سے تھانے کے درمیان چلی تھی، اسی طرح مستقبل میں جب بھی ہائیڈروجن ٹرین کا ذکر آئے گا تو جیند، سونی پت اور ہریانہ کا نام ضرور آئے گا۔‘‘ پی ایم مودی نے مزید کہا کہ ہندوستان کی یہ ٹرین دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے لمبی ہے۔ یہ ٹرین 3200 ہارس پاور کی طاقت رکھتی ہے اور اس میں 10 کوچ ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں چلنے والی ٹرینوں میں محض 4-3 کوچ ہوتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ہائیڈروجن ٹرین ریلوے شعبہ میں صاف ستھری اور پائیدار نقل و حمل کا نظام اپنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ہندوستان میں ڈیزائن، انجینئرنگ اور مربوط طور پر تیار کی گئی یہ ٹرین دیسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو جدید ریلوے انجینئرنگ کے شعبہ میں ملک کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور خود کفالت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ٹرین ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی سے چلتی ہے، جو ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے ہائیڈروجن کو بجلی میں تبدیل کرتی ہے۔

ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے سے پہلے وزیر اعظم مودی نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ’’آج ہندوستان کو اپنی پہلی ہائیڈروجن ٹرین ملنے کا خواب حقیقت بننے والا ہے۔ خود کفیل ہندوستان اور پائیدار ترقی کی سمت میں یہ بہت اہم دن ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے لکھا کہ ’’میں اس سے وابستہ تمام لوگوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں۔ انسان جو بھی کام کرنا چاہتا ہے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، اگر وہ کام پوری محنت سے کیا جائے تو اسے شیر کی طرح بہادری بھرا سمجھا جاتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ جیند سے سونی پت کے درمیان 89 کلومیٹر کا فاصلہ یہ ٹرین تقریباً 2 گھنٹے میں طے کرے گی اور اس دوران 12 اسٹیشنوں پر رکے گی۔ وزارت ریلوے نے ایک بیان میں بتایا کہ 10 ڈبوں والی اس ٹرین کو 1200 کلو واٹ صلاحیت والے ہائیڈروجن فیول سیل پروپلشن سسٹم سے چلایا جائے گا۔ ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 75 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ آسان الفاظ میں سمجھیں تو ہائیڈروجن فیول سیل پروپلشن سسٹم میں فیول سیل کے اندر ہوا سے حاصل ہونے والی آکسیجن اور ہائیڈروجن کو ملا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ یہی بجلی ٹرین کی موٹروں کو چلاتی ہے۔ ہائیڈروجن فیول سیل ٹرین بنیادی طور پر ایک الیکٹرک ٹرین ہے، جو اپنی بجلی خود ٹرین کے اندر ہی پیدا کرتی ہے۔

ہائیڈروجن کو صاف ایندھن سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے جلنے سے کوئی نقصان دہ آلودگی پیدا کرنے والے عناصر خارج نہیں ہوتے۔ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا آغاز ہندوستان کی توانائی کی منتقلی کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ صاف ستھری اور کم اخراج والی نقل و حمل کی سمت میں ایک قدم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔