قومی خبریں

’یہ تحریک اب رکنے والی نہیں، ہم سڑک سے پارلیمنٹ تک آواز اٹھائیں گے‘

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے کہا کہ ’’ہمارے لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو جمہوری ہندوستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی کو جبراً حراست میں لیے جانے کا منظر، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

راہل گاندھی کو جبراً حراست میں لیے جانے کا منظر، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کو جنتر منتر پہنچنے سے دہلی پولیس نے روک دیا، جس کے بعد کانگریس سمیت انڈیا بلاک کی دیگر شریک پارٹیوں کے لیڈران نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ تلنگانہ اور کیرالہ کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اس معاملہ میں اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی ہے مودی حکومت پر آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی انتخاب جیتنے کے لیے الیکشن کمیشن کا استعمال کر رہے ہیں، اس لیے گیانیش کمار کے خلاف پورا ملک کھڑا ہے اور ان کا استعفیٰ مانگ رہا ہے۔‘‘

ریونت ریڈی نے پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی نشانے پر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ جمہوریت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، امت شاہ کی پولیس انھیں گرفتار کر رہی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین، کھڑگے جی، راہل جی اور پرینکا جی کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ملک کی عوام نریندر مودی کو معاف نہیں کرے گی۔‘‘ انھوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ ’’یہ تحریک اب رکنے والی نہیں ہے۔ ہم سڑک سے پارلیمنٹ تک آواز اٹھائیں گے۔‘‘

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو اس جگہ نہیں جانے دیا گیا، جو خاص طور سے مظاہروں اور دھرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنتر منتر جمہوری احتجاج کے لیے مقرر کی گئی جگہ ہے۔ اس کے باوجود قائد حزب اختلاف کو پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انھیں دہلی پولیس نے روکا، راستہ بند کر دیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آزاد اور منصفانہ انتخابات کی بنیاد ووٹر لسٹ ہے۔ آج ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کا پورا عمل پٹری سے اتر گیا ہے اور کروڑوں ووٹرز کے نام ووٹر لسٹس سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔‘‘

مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے درمیان سانٹھ گانٹھ ہے، اسی لیے انھیں (چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو) اب بھی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو جمہوری ہندوستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے کئی اراکین پارلیمنٹ کو دہلی پولیس نے آج جنتر منتر جا کر مظاہرہ کرنے سے روک دیا۔ مظاہرین کو دہلی پولیس کے ذریعہ حراست میں لے لیا گیا اور بوقت شب انھیں چھوڑا گیا۔ حراست سے رہائی ملنے کے بعد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی، جس میں انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے ملی بھرپور حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’میں انڈیا بلاک کے ان سبھی اراکین پارلیمنٹ کا شکرگزار ہوں، جو ہماری جمہوریت کی حفاظت کے لیے پارلیمنٹ میں، سڑکوں پر اور آج جنتر منتر کے پاس مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انھوں نے انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’وہ (مودی حکومت) مارچ روک سکتے ہیں، وہ میٹنگ کرنے سے منع کر سکتے ہیں، لیکن وہ ہمارے لوگوں کے عزائم کو نہیں روک سکتے۔ نریندر مودی، امت شاہ، گیانیش کمار اور پورے سسٹم کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘‘ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی حراست میں لیے جانے کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے عہدہ سے ہٹائے جانے تک تحریک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ آئین کی حفاظت کے لیے اگر جان دینے کی ضرورت پڑی، تو اس سے بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔