قومی خبریں

اب جہیز کے مقدمات کا جلد ہوگا نمٹارا، سپریم کورٹ نے جلد سماعت کے لیے اہم ہدایات جاری کیں

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ’’اس طرح کے مقدموں میں چارج شیٹ جمع ہونے کے بعد 60 سے 90 دنوں کے اندر الزام طے کیا جانا چاہئے۔ الزام طے ہونے کے فوراً بعد گواہوں کے بیان درج کرنے کا عمل شروع ہو۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

جہیز کے لیے ہراسانی اور جہیز کی وجہ سے ہونے والی اموات کے مقدمات کا اب جلد نمٹارا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے ملک کی نچلی عدالتوں کو جہیز سے متعلق معاملات کی تیز سماعت کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر ملزم کا وکیل بار بار سماعت ٹالنے کی کوشش کرتا ہے، تو کسی دوسرے وکیل کو ’ امیکس کیوری‘ مقرر کرکے کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ حکم جسٹس سنجے کرول اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے دیا ہے۔ ججوں نے کہا ہے کہ آئی پی سی کی دفعہ 304- بی (جہیز معاملے میں موت) اور 498-اے (جہیز ہراسانی)  کے معاملوں کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں دفعہ اب نئے قانون ’بی این ایس‘ میں دفعہ 80 اور 85 بن چکی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ’’اس طرح کے مقدموں میں چارج شیٹ جمع ہونے کے بعد 60 سے 90 دنوں کے اندر الزام طے کیا جانا چاہئے۔ الزام طے ہونے کے فوراً بعد گواہوں کے بیان درج کرنے کا عمل شروع ہونا چاہئے۔ اگر ممکن ہوتو بغیر رکاوٹ کے روزانہ سماعت کی جائے۔ بے وجہ سماعت ٹالنے اور اگلی تاریخ دینے سے پرہیز کیا جائے۔‘‘ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سبھی ہائی کورٹ اپنے دائرہ اختیار کی نچلی عدالتوں میں چل رہے جہیز سے متعلق مقدموں کا ’ٹریکنگ سسٹم‘ بنائیں۔ اس کے لیے ہائی کورٹ کو ایک ’ڈیجیٹل ڈیش بورڈ‘ اور ’آٹومیٹک الرٹ سسٹم‘ تیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ برسوں سے زیر التوا مقدموں کی شناخت ہو سکے گی۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں اور ہائی کورٹس سے کہا ہے کہ وہ سال میں 3 بار اسے رپورٹ بھیجیں۔

ججوں نے جہیز سے متعلق مقدموں کے حوالے سے کئی اہم باتوں کی جانب توجہ مرکوز کرائی ہے۔ عدالت کی اہم باتوں میں: ’چارج شیٹ جمع ہونے کے بعد 60 سے 90 دنوں کے اندر الزام طے کیے جائیں‘۔ ’الزام طے ہوتے ہی گواہی کا عمل شروع ہو اور روزانہ سماعت کی کوشش کی جائے‘۔ ’3 برسوں سے زیادہ وقت سے زیر التوا مقدمے کی ضلع عدالتیں ہر مہینے یا 3 مہینے میں نظر ثانی کریں‘۔ ’الزام طے ہوتے ہی گواہوں کے بیان کے لیے ایک ’وٹنیس کیلنڈر‘ بنایا جائے‘۔ ’وکلاء یا فریقین کو بے وجہ اگلی تاریخ نہیں ملے گی۔ سماعت ٹالنے پر جج کو تحریری طور پر وجہ بتانی ہوگی‘۔ ’اگر ملزم کا وکیل بار بار غیر حاضر رہتا ہے یا سماعت ٹالنے کی کوشش کرتا ہے تو کورٹ کسی دوسرے وکیل کو ’امیکس کیوری‘ مقرر کرکے کارروائی کو آگے بڑھائے‘۔ ’ہائی کورٹ میں ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنے گا، جو پرانے مقدمات کی صورتحال اور زیر التواء مرحلے پر الرٹ کریں گے‘۔ ’ مشاورت یا ثالثی صرف عام خاندانی جھگڑوں میں کی جائے گی، قتل یا سنگین تشدد کے معاملے میں نہیں‘۔ ’سبھی ریاستوں اور ہائی کورٹ کو ہر سال 15 جنوری، 15 مئی اور 15 ستمبر کو سپریم کورٹ کو رپورٹ دینی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔