قومی خبریں

’کوئی انتظام نہیں تھا، کوئی پولیس نہیں تھی‘، بہار کے شیتلا مندر بھگدڑ میں زندہ بچنے والوں نے بتایا حال

زخمی ریتا دیوی نے کہا کہ ’’ہم 4 سہیلیاں مندر پہنچی تھیں۔ اچانک بھگدڑ مچ گئی اور ایک سہیلی زمین پر گر گئی۔ جب تک ہم لوگ کچھ سمجھ پاتے، کئی لوگ اس کے اوپر چڑھ کر بھاگنے لگے۔ دبنے سے اس کی موت ہو گئی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>بھگدڑ کی علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

بھگدڑ کی علامتی تصویر، اے آئی

 

’’کوئی انتظام نہیں تھا۔ کوئی پولیس نہیں تھی۔ کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔ ایک بار کسی نے شور مچایا اور سب بھاگنے لگے۔ کون کس پر چڑھا، کون کس کو کچل گیا، کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ جب پوری بھیڑ ہٹی تو اندر سے لاشیں اور خون دیکھ کر سب دہل گئے۔‘‘ یہ بیان نالندہ کے بہارشریف میں مگھڑا دیوی شیتلا ماتا مندر میں مچی بھگدڑ کے بعد بچ جانے والے ایک شخص کا ہے۔ کئی زخمی لوگ شیتلا مندر بھگدڑ معاملہ میں اپنے سخت رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ بیانات سے ان کا درد، خوف اور غصہ پوری طرح ظاہر ہو رہا ہے۔ غصہ اس بات پر بہت زیادہ ہے کہ جب سب کچھ ختم ہو گیا اس کے بعد پولیس آئی، اور پھر تماشہ دیکھنے والے بھی آ گئے، ویڈیو بنانے والے بھی۔

Published: undefined

بھگدڑ میں زخمی ہونے والی ریتا دیوی نے روتے ہوئے کہا کہ ’’ہم 4 سہیلیاں مندر آئی تھیں۔ اچانک بھگدڑ مچ گئی۔ میری ایک سہیلی زمین پر گر گئی۔ جب تک ہم کچھ سمجھ پاتے، لوگ اس کے اوپر چڑھ کر ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ دبنے سے اس کی موت ہو گئی۔ ہمارا سب کچھ ختم ہو گیا۔‘‘ سونم کماری نے کہا کہ ’’میں اپنی ماں کے ساتھ مندر درشن کرنے آئی تھی۔ بھیڑ بہت زیادہ تھی۔ ہم کافی دیر سے قطار میں لگے تھے۔ ماں آگے چلی گئی۔ میں انہیں منع کر رہی تھی کہ آگے مت جاؤ ممی، لیکن ماں نے میری بات نہیں سنی۔ اسی دوران بھگدڑ مچنے کی وجہ سے ماں کی جان چلی گئی۔‘‘

Published: undefined

بھگدڑ کے بعد خواتین نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے۔ عینی شاہد رینا رائے نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی لاپروائی کے سبب یہ حادثہ ہوا۔ اتنی بھیڑ ہونے کے باوجود کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔ پولیس موجود نہیں تھی۔ پہلے درشن کرنے کی کوشش میں لوگ آگے بڑھنے لگے۔ انتظامیہ لوگوں کی بھیڑ کو قابو میں نہیں رکھ سکی، اسی لیے یہ حادثہ پیش آیا۔ مندر میں درشن کرنے پہنچے پنکج کمار نے کہا کہ ’’ہم ڈھائی گھنٹے سے لائن میں کھڑے تھے۔ منگل کی صبح 6.30 بجے ہی لائن میں لگ گیا تھا۔ مندر انتظامیہ کی طرف سے کوئی انتظام نہیں تھا۔ ضلع انتظامیہ کی طرف سے بھی خاص بندوبست نہیں تھا۔ پچاس میٹر لمبی لائن میں کھڑے لوگوں کو درشن کرنے میں دو گھنٹے لگ رہے تھے۔ گرمی کی وجہ سے لوگوں کا برا حال ہو رہا تھا۔‘‘ پنکج کمار نے الزام لگایا کہ کچھ لوگوں کو پیسے لے کر ’گربھ گرہ‘ میں داخل کرایا جا رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم نے پیسے نہیں دیے تو لائن میں ہی لگے رہے۔ اسی دوران اچانک بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ میں بھی زمین پر گر گیا۔ میرے اوپر کم از کم 10 سے پندرہ لوگ گرے ہوں گے۔‘‘

Published: undefined

کچھ لوگوں نے کہا کہ بہار میں اس طرح کا حادثہ کبھی بھی پیش آ سکتا ہے، خاص طور پر جب کسی بڑے وی آئی پی کی آمد و رفت ہو۔ صدر کا نالندہ دورہ تھا، اس لیے پولیس اور انتظامیہ کی پوری ٹیم اُس جگہ مرکوز تھی جہاں سے صدر کو گزرنا تھا۔ کسی کا اس مندر یا ایسے کسی پروگرام کی طرف دھیان نہیں تھا۔ نتیجہ یہ دردناک واقعہ ہے جس کا ذکر عینی شاہدین نے کیا۔ مندر بھگدڑ میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ کس طرح کسی ایک گروہ سے اٹھنے والے شور کی وجہ سمجھے بغیر لوگ بھاگنے لگے۔ اگر پولیس ہوتی تو سنبھالنے کی کوشش کرتی، لیکن وہ موجود نہیں تھی۔ کوئی انتظامی بندوبست نہیں تھا، جس کی وجہ سے بھیڑ غیر معمولی طور پر بھاگنے لگی۔ جو گر گیا، اس پر چڑھتے ہوئے لوگ آگے نکلتے گئے۔ چونکہ زیادہ تر لوگ خالی پیٹ تھے، اس لیے گرنے والوں کو اٹھانے کے لیے کوئی رکنے کو تیار نہیں تھا۔ کمزور خواتین گریں اور بھیڑ انہیں کچلتی چلی گئی۔ بعد میں جب بھیڑ چھٹی تو خون سے لت پت لاشیں نکلنے لگیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined