
نئی دہلی: ایودھیا معاملے میں جمعرات کو ہندو فریق نے پانچ رکنی آئینی بنچ کو کئی فوٹوگراف سونپیں تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ بابری کی بنیادستونوں پر رکھی گئی تھی۔
Published: 03 Oct 2019, 9:10 PM IST
سپریم کورٹ اس معاملے کی سماعت 6 اگست سے روزانہ کی بنیاد پر کررہی ہے۔ ستمبر 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے متنازعہ 77ء2 ایکڑ زمین کو تین فریقوں کو دیئے جانے کا فیصلہ سنایا تھا اور اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں متعدد عرضیاں داخل گئیں تھیں۔
Published: 03 Oct 2019, 9:10 PM IST
چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی آئینی بنچ میں جسٹس ایس اروند بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنذیر شامل ہیں۔ ہندو فریق کے وکیل سی ایس بید ناتھن نے کہا کہ تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ بابری مسجد کو ستونوں پر کھڑ ا کیا گیا ہے۔
Published: 03 Oct 2019, 9:10 PM IST
انہوں نے کہا کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش کے سلسلے میں تنازعہ ہے۔ رام کوٹ بودھوں کی جگہ تھی۔ اگر یہاں ہندوؤں کے ذریعہ صدیوں سے پوجا کی جاتی رہی ہے تو اس میں اور تنازعہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ایک ہندو ڈھانچہ تھا۔
Published: 03 Oct 2019, 9:10 PM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 03 Oct 2019, 9:10 PM IST
تصویر: پریس ریلیز