عمران پرتاپ گڑھی لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے، ویڈیو گریب
کانگریس رکن پارلیمنٹ اور مشہور و معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی نے آج لوک سبھا میں دیہی ترقی کے موجودہ حالات پر اپنی شدید فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے گاؤں کا جو تصور تھا، اس میں محبت تھی، اپنائیت تھی اور بھائی چارہ تھا۔ لیکن یہ عناصر اب دھیرے دھیرے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
لوک سبھا میں آج اپنی تقریر کا آغاز عمران پرتاپ گڑھی نے کچھ اشعار کے ساتھ کیا، جو اس طرح ہیں:
کوئی خوشبو، نہ کوئی پھول، نہ کوئی رونق
اس پہ کانٹوں کی جہالت نہیں دیکھی جاتی
ہم نے کھولی تھی اسی باغ میں اپنی آنکھیں
ہم سے اس باغ کی حالت نہیں دیکھی جاتی
---
رات بس رات ہی ہوتی تو کوئی بات تھی
اُس کا آکار مگر دونا نظر آتا ہے
جتنے چمکیلے ستارے تھے، وہ سب ٹوٹ چکے ہیں
سارا آکاش بڑا سونا نظر آتا ہے
---
بلبلیں خوش تھیں امیدوں کے ترانے گائے
لے کے پت جھڑ سے پہاڑوں کو چمن سونپ دیا
اب تو معصوم گلابوں کی یہ گھائل خوشبو
شیش دھنتی ہے کہ خاروں کو چمن سونپ دیا
---
تم نے کیا کام کیا ان کے ابھاؤں کے لیے
جن کی محنت سے تمھیں تخت ملا، تاج ملا
ان کے سپنوں کے جنازوں میں تو شامل ہوتے
جن کے چپ رہنے کی وجہ سے تمھیں راج ملا
Published: undefined
برسراقتدار طبقہ پر نہایت صفائی کے ساتھ حملہ کرتے ہوئے ان اشعار کو پیش کرنے کے بعد عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ’’مہاتما گاندھی جی نے جب گاؤں کا خواب دیکھا تو اس میں وہ محبت تھی، جس میں ہر وقت گاؤں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ لیکن 2014 کے بعد جس طرح سے گاؤں میں نفرت پھیلا کر ترقی کی گئی، وہ ناقابل تصور ہے۔‘‘ مثال پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’ملک میں منریگا سے جڑا طبقہ پریشان ہے، مگر حکومت منریگا کو حوصلہ بخشنے کی جگہ منریگا کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ کسان ملک کی حکومت کے سامنے لگاتار اپنے مطالبات لے کر کھڑا رہا، لیکن اس حکومت نے کسانوں کے راستے میں پھول بچھانے کی جگہ کیلیں بچھا دیں، جس کے سبب 700 سے زائد کسان شہید ہو گئے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کچھ دیگر مثالیں بھی پیش کیں، جہاں دیہی عوام برسراقتدار طبقہ کی مایوس کن پالیسیوں کی زد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے گاؤں میں ’پردھان منتری یوجنا‘ کے تحت رہائش بنے، لیکن بی جے پی کی ریاستی حکومتیں انہی رہائشوں پر بلڈوزر چلاتی ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو گاؤں کی ترقی کیسے ہوگی؟‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج اس حکومت میں گاؤں بنیادی سہولیات سے بھی نبرد آزما ہے، اسی وجہ سے گاؤں خالی ہو رہے ہیں اور لوگ ہجرت کر رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: محمد تسلیم