
کیرالہ، تصویر سوشل میڈیا
نئے پی ایم او ’سیوا تیرتھ‘ میں منگل (24 فروری) کو مودی کابینہ کی پہلی میٹنگ ہوئی۔ اس میں ’سیوا سنکلپ‘ (خدمت کا عہد) کی قرارداد منظور کی گئی۔ کابینہ کی میٹنگ میں کیرالہ کے نام کو ’کیرلم‘ کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ سری نگر میں انٹیگریٹڈ ایئرپورٹ ٹرمینل کو بھی منظوری ملی۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بتایا کہ ملیالم زبان میں ’کیرلم‘ کہا جاتا ہے، اس لیے یہ مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔
Published: undefined
اشونی وشنو کے مطابق ریاستی اسمبلی کی منظوری اور مرکزی حکومت کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ میں بھی اس کا عمل جاری رہے گا۔ کابینہ نے کیرالہ (نام کی تبدیلی) بل 2026 کو منظوری دی۔ اب صدر جمہوریہ اسے کیرالہ اسمبلی بھیجیں گی، اس کے بعد یہ دوبارہ پارلیمنٹ میں آئے گا۔ کیرالہ کا نام بدل کر ’کیرلم‘ کرنے کی منظوری کے ساتھ ہی سیاسی ہلچل بھی بڑھ گئی ہے۔ ترواننت پورم سے کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کیرالہ کو ’کیرلم‘ کرنے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ریاست کا نام ’کیرلم‘ ہو گیا تو انگریزی میں کیرالہ کے لوگوں کو کیا کہا جائے گا۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نام بدلنا ٹھیک ہے، لیکن انگریزی بولنے والوں کے لیے ایک چھوٹا سا لسانی سوال ہے: نئے ’کیرلم‘ کے باشندوں کے لیے ’کیرالائٹ‘ اور ’کیرالن‘ جیسے الفاظ کا اب کیا ہوگا؟ ’کیرالمائٹ‘ تو کسی جراثیم کا نام لگتا ہے اور ’کیرالمیئن‘ کسی نایاب معدنی عنصر جیسا محسوس ہوتا ہے…!‘‘ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعلیٰ کے دفتر کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ شاید اس انتخابی جوش کے نتیجے میں نئے ناموں کے لیے کوئی مقابلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ نام بدلنے کی تجویز 2024 میں کیرالہ اسمبلی میں لائی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے خود اسے پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ ’کیرالہ‘ انگریزی میں لکھا جاتا ہے، لیکن ملیالم میں ریاست کو ’کیرلم‘ کہا جاتا ہے۔ اسمبلی نے مرکز سے درخواست کی کہ آرٹیکل 3 کے تحت ترمیم کر کے نام تبدیل کر دیا جائے۔ 2024 میں تجویز منظور ہونے کے بعد وزارت داخلہ نے کچھ تکنیکی تبدیلیوں کا مشورہ دیا، جس کے بعد جون 2025 میں دوبارہ تجویز منظور کی گئی تھی۔ ریاست میں برسراقتدار ایل ڈی ایف (سی پی ایم)، کانگریس اور اپوزیشن بی جے پی سب اس پر متفق ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ ’’نیا نام بالکل ٹھیک رہے گا کیونکہ ریاست اپنی روایات اور ثقافت کا تحفظ کرنا چاہتی ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined