قومی خبریں

نیٹ طالبہ کی مشتبہ حالت میں موت اور اس کے بعد کارروائی نے پھر گہری سڑاندھ کو ظاہر کر دیا: راہل گاندھی

پرینکا گاندھی نے کہا کہ نیٹ طالبہ کی موت معاملہ پر آواز اٹھا رہے رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی گرفتاری غیر حساس رویہ کی مزید ایک مثال ہے۔ بی جے پی اور ان کے ساتھی ناانصافی اور ظلم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی 

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں نیٹ کی تیاری کر رہی طالبہ کی مشتبہ حالت میں ہوئی موت معاملہ پر کانگریس نے بی جے پی اور اس کی ساتھی پارٹی جنتا دل یو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس معاملہ میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے خاص طور سے حکمراں طبقہ کے رویہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پٹنہ میں نیٹ کی تیاری کر رہی طالبہ کی مشتبہ حالت میں ہوئی موت اور اس کے بعد کی پوری کارروائی نے ایک بار پھر سسٹم کی گہری سڑاندھ کو ظاہر کر دیا ہے۔‘‘

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ متاثرہ کنبہ نے جب غیر جانبدارانہ جانچ اور انصاف کا مطالبہ کیا، تو وہی پرانا بی جے پی-این ڈی اے ماڈل سامنے آ گیا۔ یعنی کیس کو بھٹکاؤ، کنبہ کو پریشان کرو اور جرائم پیشوں کو اقتدار کا تحفظ فراہم کرو۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’اس بیٹی کے لیے انصاف کی آواز بن کر ساتھی رکن پارلیمنٹ پپو یادو جی مضبوطی سے کھڑے ہوئے۔ آج ان کی گرفتاری صاف طور پر سیاسی رنجش ہے تاکہ جوابدہی مانگنے والی ہر آواز کو ڈرایا اور دبایا جا سکے۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے پورے معاملہ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’سب سے فکر انگیز بات یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی ایک معاملہ تک محدود نظر نہیں آتا۔ یہ ایک خوفناک سازش اور خطرناک پیٹرل کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں مزید بیٹیاں شکار بن رہی ہیں اور اقتدار اس خوفناک سچائی سے آنکھیں موند کر بیٹھی ہے۔‘‘ تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’یہ سیاست نہیں، انصاف کا سوال ہے۔ یہ بہار کی بیٹی کی عزت اور تحفظ کا سوال ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined