
تصویر اے آئی
ملک کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں رواں سال ریکارڈ تعداد میں گھروں کی حوالگی (پزیشن) کی امید کی جا رہی تھی لیکن مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس شعبے کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ عالمی تجارت، کموڈٹی مارکیٹ اور سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات کے باعث ملک کے سات بڑے شہروں میں تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار فلیٹس کی حوالگی متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریئل اسٹیٹ کنسلٹنسی فرم اینراک کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2023 کے درمیان شروع کیے گئے متعدد رہائشی منصوبے اس وقت تعمیر کے آخری مرحلے میں ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد رواں سال بڑی تعداد میں گھروں کی حوالگی متوقع تھی، تاہم عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق دہلی-این سی آر، ممبئی میٹروپولیٹن ریجن، پونے، بنگلورو، چنئی، حیدرآباد اور کولکاتہ جیسے بڑے شہروں میں مجموعی طور پر 5.4 لاکھ سے زیادہ فلیٹس مالکان کے حوالے کیے جانے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو ایندھن، لاجسٹکس اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ منصوبوں کی لاگت اور تکمیل کے وقت دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ممبئی میٹروپولیٹن ریجن اور پونے سب سے زیادہ حساس بازار بن کر سامنے آئے ہیں۔ رواں سال ممبئی میں تقریباً 2 لاکھ 7 ہزار 300 جبکہ پونے میں ایک لاکھ 300 گھروں کی حوالگی متوقع ہے۔ دونوں شہروں کا حصہ ملک بھر میں متوقع کل ڈیلیوری کا تقریباً 57 فیصد بنتا ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی تاخیر کے اثرات پورے ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
Published: undefined
جنوبی ہندوستان کی بڑی مارکیٹیں بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں ہیں۔ بنگلورو میں 69 ہزار، حیدرآباد میں 63 ہزار 700 اور چنئی میں 35 ہزار 600 فلیٹس کی حوالگی متوقع ہے۔ ان تینوں شہروں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 68 ہزار سے زائد فلیٹس مختلف مراحل میں ہیں، جن پر بڑھتی لاگت اور سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ریئل اسٹیٹ کا شعبہ عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اینراک ریسرچ نے یاد دلایا کہ 2020 میں کورونا وبا کے دوران بھی سات بڑے شہروں میں تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار گھروں کی حوالگی متوقع تھی لیکن لاک ڈاؤن، مزدوروں کی نقل مکانی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث صرف 2 لاکھ 14 ہزار گھر ہی خریداروں کو مل سکے تھے۔
Published: undefined
اگرچہ موجودہ حالات کورونا دور جیسے نہیں ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی کشیدگی کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ رہائشی املاک کی مانگ اب بھی مضبوط ہے اور بیشتر ڈیولپرز کی مالی حالت ماضی کے مقابلے بہتر ہے، جس سے اس بحران کے ممکنہ اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined