کل جماعتی میٹنگ، تصویر سوشل میڈیا
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل نئی دہلی میں اتوار (30 نومبر) کو کل جماعتی میٹنگ ہوئی، جس میں اپوزیشن لیڈران نے ووٹر لسٹ میں تبدیلی اور حال ہی میں دہلی میں ہوئے بلاسٹ سے لے کر بے روزگاری، مہنگائی، وفاقیت اور ریاستوں میں لا اینڈ آرڈر جیسے کئی مسائل اٹھائے۔ حکومت نے دونوں ایوانوں میں کام کاج کو ٹھیک سے چلانے کے لیے یہ کل جماعتی میٹنگ بلایا تھا۔ واضح رہے کہ پیر (یکم دسمبر) سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے والا ہے۔
Published: undefined
سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن جان بریٹاس نے کہا کہ اپوزیشن ان ضروری مسائل پر متفق ہے، جن پر سیشن کے دوارن بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے کئی مسائل اٹھائے ہیں، جن میں ایس آئی آر، دہلی بلاسٹ، آلودگی، وفاقیت اور دیگر خدشات شامل ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں میں اتفاق ہے کہ ان ضروری مسائل پر بات ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ چلانے کی ذمہ داری مکمل طور سے کانگریس کی ہے اور اگر اس میں کوئی رکاوٹ آتی ہے تو ذمہ داری ان کی ہے۔ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سب کو روند دیں گے۔ ہمیں لگتا ہے کہ سرکار کو جواب دینا چاہیے، اور اپوزیشن کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘
Published: undefined
نوین پٹنائک کے کہنے پر پارٹی کی نمائندگی کر رہے بی جے ڈی لیڈر سسمیتا پاترا نے کہا کہ ان کی پارٹی اوڈیشہ کے مسائل کو اٹھائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری سب سے تشویشناک امر ہے۔ اوڈیشہ کو خصوصی ریاست کا درجہ ملنا چاہیے۔ اوڈیشہ میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہو رہی ہے، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں نواپاڑا ضمنی انتخاب میں ہم نے انتخابی بے ضابطگیاں دیکھیں۔‘‘
Published: undefined
کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے حکومت پر پارلیمنٹ کے سیشن کو مختصر کرنے اور اسے شروع کرنے میں تاخیر کر کے پارلیمنٹ کے قواعد کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کل جماعتی میٹنگ کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کہا کہ ’’سرمائی اجلاس صرف 19 دن کا ہے، جن میں صرف 15 دن ہی بحث ہو پائے گی۔ یہ شاید اب تک کا سب سے مختصر سرمائی اجلاس ہوگا۔ سرمائی اجلاس بھی تاخیر سے شروع ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود پارلیمنٹ کو نہیں چلانا چاہتی ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہم نے سیکورٹی کا مسئلہ اٹھایا کہ اس سرمائی اجلاس میں سیکورٹی سے متعلق اہم مسائل پر بحث ہو، جس میں قومی سلامتی سب سے پہلے ہے۔ دہلی میں جو بلاسٹ ہوا، وہ کہیں نہ کہیں ہماری قانونی اور محکمہ داخلہ کی ناکامیوں کا ایک اہم ثبوت ہے۔ لیکن ایسا نہیں لگتا ہے کہ حکومت اس مسئلہ پر بحث کرنا چاہتی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ جس پر بحث ضروری ہے وہ ہے جمہوریت کی سلامتی۔
Published: undefined
گورو گوگوئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارا تیسرا اہم مطالبہ صحت کی حفاظت سے متعلق تھا، کیونکہ ملک کے کونے کونے میں فضائی آلودگی میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ چوتھا اہم مسئلہ ہماری اقتصادی سلامتی سے متعلق تھا۔ پانچواں مسئلہ جو ہم نے اٹھایا وہ قدرتی تحفظ سے متعلق تھا، جس طرح سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور طوفان آ رہے ہیں اس کی کوئی تیاری نہیں ہے۔ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کا مسئلہ بھی اٹھایا، جسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان دوسرے ممالک مطابق اپنی خارجہ پالیسی بنا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined