
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا (فائل)/ آئی اے این ایس
دہلی حکومت جلد ہی راجدھانی میں نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت عہدیداروں کی تقرری کے احکامات جاری کرنے والی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق 13 اضلاع کے لیے 13 آئی اے ایس افسران کو ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور 39 سب ڈویژنوں کے لیے 39 سینئر افسران کو سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) بنایا جائے گا۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق افسران نے بتایا کہ یہ عمل آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی اس کے احکامات جاری ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ حال ہی میں دہلی کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے دہلی میں 11 اضلاع اور 33 سب ڈویژن تھے، لیکن اب اسے بڑھا کر 13 اضلاع اور 39 سب ڈویژن کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے متعلق کابینہ کے فیصلے کو لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی منظوری مل چکی ہے۔ اس کے بعد اب نئے اضلاع اور سب ڈویژنوں کے لیے افسران کی تعیناتی کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
افسران کے مطابق اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ موجودہ ڈی ایم اور ایس ڈی ایم اپنے موجودہ عہدوں برقرار رہیں گے یا انہیں دوسرے اضلاع میں بھیجا جائے گا۔ کچھ افسران نئے بھی تعینات ہو سکتے ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ کئی موجودہ افسران ممکنہ طور پر اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے، کیونکہ انہوں نے اب تک اپنے موجودہ عہدوں پر اپنی 2 سالہ مدت پوری نہیں کی ہے۔
Published: undefined
حکومت نے نئے ڈی ایم اور ایس ڈی ایم کے لیے دفتری انتظامات کی تیاری بھی کر لی ہے۔ افسران نے بتایا کہ 13 ڈی ایم اور 39 ایس ڈی ایم کے لیے دفاتر کی میپنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تمام افسران ان دفاتر کے احاطے سے کام کریں گے، جہاں فی الحال 11 اضلاع کے ڈی ایم کے دفاتر ہیں۔ ان مقامات پر عارضی طور پر نئے افسران کے لیے جگہ کا تعین کر لیا گیا ہے۔ بعد میں ضرورت کے مطابق نئے دفاتر بھی بنائے جائیں گے۔
Published: undefined
جیسے ہی تقرری کے احکامات جاری ہوں گے، افسران چارج سنبھال لیں گے اور نئے ضلع اور سب ڈویژن کی حدود کے مطابق کام شروع کر دیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے دوران عام لوگوں کو ملنے والی خدمات میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ خاص طور سے دستاویزات کی رجسٹریشن یعنی رجسٹری سے متعلق خدمات کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے لیے موجودہ سب-رجسٹرار دفاتر فی الحال اپنے پرانے نظام کے تحت کام کرتے رہیں گے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ 22 موجودہ سب-رجسٹرار دفاتر کو بڑھا کر 39 کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے، لیکن اسے نافذ کرنے کے لیے الگ سے نوٹیفکیشن بعد میں جاری کیا جائے گا۔
Published: undefined
حکومت کے مطابق انتظامی تنظیم نو کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ ریونیو اضلاع اور میونسپل کارپوریشن علاقوں کی حدود طویل عرصے سے ایک دوسرے سے میل نہیں کھا رہی تھیں۔ اس کی وجہ سے شکایتوں کے حل میں تاخیر ہوتی تھی اور زمین سے متعلق معاملات میں بھی لوگوں کو پریشانی ہوتی تھی۔ مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ تھی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم نو کے تحت 3 نئے اضلاع بنائے گئے ہیں، اولڈ دہلی، نارتھ اور آؤٹر نارتھ۔ اس کے علاوہ 10 پرانے اضلاع کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی حدود میں تبدیلی کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قدم سے انتظامیہ اور میونسپل کے درمیان ہم آہنگی بہتر ہوگی، کام کی رفتار بڑھے گی اور عوامی شکایات کا حل جلد ہو سکے گا۔ مجموعی طور پر دہلی حکومت کا یہ فیصلہ راجدھانی کے انتظامی نظام زیادہ آسان، موثر اور عوام کے لیے زیادہ آسان بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined