
جے رام رمیش / INCIndia@
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے منگل (3 نومبر) کو ’اروناچل جنتا پارٹی‘ نامی جماعت کے قیام پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ یہ ’خود ساختہ چانکیہ‘ کی ایک چال ہے۔ انہوں نے اس جماعت کے قیام سے متعلق ایک عوامی نوٹس شیئر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے باغی ارکان پارلیمنٹ کے لیے ’نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا‘ (این سی پی آئی) کو ایک ’پناہ گاہ‘ کے طور پر دوبارہ فعال کیا گیا تھا۔
جے رام رمیش کی جانب سے شیئر کیے گئے نوٹس کے مطابق ’اروناچل جنتا پارٹی‘ کا قیام 16 اکتوبر 2026 کو عمل میں آیا۔ پارٹی کا صدر دفتر اروناچل پردیش کے پاپم پارے ضلع کے ایٹانگر میں واقع ڈوکم کالونی میں بتایا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29 اے کے تحت الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ مجوزہ رجسٹریشن پر کسی بھی قسم کا اعتراض رکھنے والے شخص سے کہا گیا ہے کہ وہ 3 دسمبر 2026 تک نئی دہلی میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر میں تحریری اعتراض درج کرا سکتا ہے۔
کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ملک میں اس طرح کی 734 رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیاں ہیں، جن کی جانب سے 25-2024 میں ظاہر کی گئی آمدنی 1100 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔ انہوں نے الزام عائد کہ اس رقم کا نصف حصہ صرف گجرات کی ایسی 29 سیاسی پارٹیوں کے پاس گیا۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں ترنمول کانگریس کی شکست کے بعد اس کے 27 لوک سبھا اراکین میں سے 20 نے پارٹی چھوڑ دی تھی۔ کئی دنوں تک بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں اور ’دَل بدل قانون‘ کے نفاذ سے متعلق بحث کے بعد ان تمام ارکین نے این سی پی آئی نامی ایسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کا کوئی رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ نہیں تھا۔ ان اراکین پارلیمنٹ نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو حمایت دی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔