قومی خبریں

اترپردیش میں 10 اپریل کو جاری ہوگی حتمی ووٹر لسٹ، 13.25 کروڑ نام شامل اور 12.55 کروڑ حذف ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹرلسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے86.69 لاکھ لوگوں نے فارم-6 بھرا تھا اور نام حذف کرنے کے لیے 3.18 لاکھ فارم 7 داخل کیے گئے تھے۔ امکان ہے کہ 13.25 کروڑ سے زیادہ نام باقی رہیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹر لسٹ کی خصوصی  نظرثانی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی، تصویر سوشل میڈیا

 

آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ووٹرلسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں نوٹس پانے والے 3.26 کروڑ رائے دہندگان کے مؤقف کی سماعت کا کام جمعہ کو مکمل ہوگیا۔ اس سلسلے میں ریاست کے چیف الیکٹورل آفس کے مطابق 100 فیصد نوٹسز کی سماعت ہو چکی ہے۔ حتمی ووٹر لسٹ میں 13.25 کروڑ سے زیادہ نام شامل ہونے کی امید ہے۔ یہ حتمی فہرست 10 اپریل کو جاری کی جائے گی۔

Published: undefined

اکتوبر 2025 میں ایس آئی آر کے تحت حذف کئے گئے 12.55 کروڑ لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے 1.04 کروڑ لوگ وہ ہیں جن کے نام 2003 کی ووٹر لسٹ کے ساتھ نہیں میل نہیں ہوسکے یعنی ان کے اپنے نام یا ان کے والدین، دادا دادی اور نانا نانی کے ناموں کا میل نہیں ہو سکا۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی جانب سے ایسے لوگوں سے دستاویزات مانگے گئے تھے۔ گھروں کے قریب ہونے والی سماعتوں اور خاندان کے دیگر افراد کو دستاویزات کے ساتھ سماعت میں شریک ہونے کا کافی اثر ہوا۔

Published: undefined

دریں اثنا بی ایل اوز نے 2.22 کروڑ رائے دہندگان کے منطقی تضادات سننے کے لیے ان کے گھروں کا دورہ کیا۔ جس میں رائے دہندگان کے نام اور والد کے نام میں گڑبڑی اور والدین سے عمر میں 15 سال سے کم فرق تھا۔ ایسے میں ان کے بھی بہت کم نام حذف ہونے کی امید ہے۔ تقریباً 97 فیصد سے زیادہ نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہنے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن سے موصول اعداد و شمار کے مطابق ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے 86.69 لاکھ لوگوں نے فارم-6 داخل کیا ہے۔ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے 3.18 لاکھ فارم 7 داخل کیے گئے ہیں۔ ان حالات میں امکان ہے کہ 13.25 کروڑ سے زیادہ نام باقی رہیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined