قومی خبریں

’شریعہ قوانین کی دفعات منسوخ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ مقننہ کے اختیار میں‘، سپریم کورٹ کا تبصرہ

مسلمانوں میں جانشینی سے متعلق قانون سے جڑے معاملہ پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر عدالت شریعہ قوانین کے جانشینی سے متعلق التزامات کو منسوخ کر دیتا ہے تو اس سے ایک قانونی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس

 

عدالت عظمیٰ نے منگل کے روز یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) اور مسلمانوں میں جانشینی سے جڑے ایک معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے کچھ اہم تبصرے کیے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک میں اب یو سی سی کے زیر التوا معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے یہ بھی واضح لفظوں میں کہا کہ شریعہ قوانین کی دفعات کو منسوخ کرنے جیسے حساس معاملوں پر حتمی فیصلہ لینا لیجسلیچر (مقننہ) کے حلقۂ اختیار میں ہے۔

Published: undefined

اس معاملہ کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے کی، جس میں جوئے مالیہ باگچی اور آر مہادیون بھی شامل تھے۔ بنچ 1937 کے مسلم پرسنل لاء (شریعہ) ایپلی کیشن ایکٹ 1937 کی کچھ دفعات کو چیلنج دینے والی عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں انھیں مسلم خواتین کے تئیں تفریق آمیز بتایا گیا ہے۔

Published: undefined

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر عدالت شریعہ قوانین کے جانشینی سے متعلق التزامات کو منسوخ کر دیتا ہے تو اس سے ایک قانونی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مسلمانوں میں جانشینی کو کنٹرول کرنے والا کوئی دیگر واضح قانون موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے عرضی دہندگان کی طرف سے پیش سینئر وکیل پرشانت بھوشن سے کہا کہ اصلاح کی جلد بازی میں ایسا قدم اٹھانا مناسب نہیں ہوگا جس سے خواتین کو موجودہ وقت سے بھی کم حقوق مل جائیں۔ انھوں نے پوچھا کہ اگر 1937 کا شریعہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ پر کیا انتظام نافذ ہوگا؟

Published: undefined

جسٹس جوئے مالیا باگچی نے بھی اس معاملہ میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ عرضی میں تفریق کا معاملہ مضبوط ہے، لیکن اس موضوع پر فیصلہ لینا پارلیمنٹ کے لیے زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ آئین کے ہدایتی اصولوں میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی ذمہ داری مقننہ کو دی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پہلے بھی کئی بار عدالت پارلیمنٹ سے یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے پر غور کرنے کی سفارش کر چکی ہے۔ بنچ کے مطابق سماجی و انفرادی قوانین میں وسیع اصلاح کے لیے قانون سازی کا عمل ہی سب سے مناسب راستہ ہے۔

Published: undefined

اس دوران پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ عدالت یہ اعلان کر سکتی ہے کہ مسلم خواتین کو مردوں کے برابر جانشینی کا حق ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شریعہ قانون کی متنازعہ دفعات ہٹائی جاتی ہیں تو ایسے معاملوں میں ہندوستانی جانشینی ایکٹ نافذ کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined