قومی خبریں

اتر پردیش کی طالبہ علمہ قریشی کی موت ایک سبق، برگر اور نوڈلس کے زیادہ استعمال سے دماغ میں بن گیا تھا گانٹھ

19 سالہ علمہ کے والد ندیم قریشی نوئیڈا میں کباڑ کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ علمہ کو تقریباً ایک ماہ قبل سر درد کی شکایت ہوئی تھی۔ علاج سے آرام ملا تھا، لیکن پھر درد ہوا اور تکلیف بڑھتی چلی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>فاسٹ فوڈ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

فاسٹ فوڈ، تصویر سوشل میڈیا

 

اتر پردیش کے امروہہ میں فاسٹ فوڈ کے زیادہ استعمال کے سبب موت کے ایک نئے معاملہ نے لوگوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ 29 دسمبر کو نیٹ کی تیاری کر رہی چچیلا کلاں باشندہ 19 سالہ طالبہ علمہ قریشی کی دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ یہ موت لوگوں کے لیے ایک سبق ہے، کیونکہ برگر اور نوڈلس کے زیادہ استعمال کے سبب علمہ کے دماغ میں گانٹھ بن گیا تھا۔ اس گانٹھ نے کم عمری میں ہی اس کی زندگی ختم کر دی۔

Published: undefined

علمہ قریشی کے گھر والوں کے مطابق علمہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ فاسٹ فوڈ میں استعمال کی جانے والی پتہ گوبھی کے ذریعہ دماغ میں پہنچے کیڑے نے گانٹھیں بنا دی تھیں۔ علمہ کے والد کا نام ندیم قریشی ہے، جو گھر سے دور نوئیڈا میں کباڑ کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بیٹی علمہ کو تقریباً ایک ماہ قبل سر درد کی شکایت ہوئی تھی۔ علاج کرانے سے اس کو آرام مل گیا تھا، لیکن کچھ دن بعد علمہ کو پھر سے درد ہوا۔ وہ علمہ کو نوئیڈا لے آئے اور اس کا پرائیویٹ اسپتال میں علاج شروع کرایا۔ یہاں ڈاکٹروں نے علمہ کا ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کرانے کا مشورہ دیا۔ جب جانچ رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ علمہ کے دماغ میں گانٹھ ہے۔ کچھ دن علاج کے بعد علمہ کو آرام مل گیا۔

Published: undefined

علمہ کے والد کا کہنا ہے کہ 18 دسمبر کو فیملی میں ہوئی ایک شادی میں شرکت کے لیے بیٹی گاؤں گئی تھی۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر اگلے ہی دن اسے دہلی لایا گیا اور پرائیویٹ اسپتال میں بغرض علاج داخل کیا گیا۔ علاج مہنگا ہونے کی وجہ سے والد نے علمہ کو رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کرایا۔ وہاں بھی علمہ کی حالت بہتر ہونے کی جگہ بگڑتی ہی چلی گئی۔ ندیم قریشی نے بتایا کہ جانچ کے دوران پتہ چلا کہ علمہ کے دماغ میں گانٹھوں کی تعداد بڑھ کر 20 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پیر کے روز دوپہر میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔

Published: undefined

علمہ کی موت کے بعد روتے بلکتے والدین علمہ کی لاش لے کر گاؤں پہنچے۔ ندیم قریشی نے بتایا کہ علمہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ پتہ گوبھی میں موجود کیڑا دماغ میں داخل ہو گیا۔ کیڑے کی وجہ سے ہی علمہ کے دماغ میں گانٹھیں بن گئی تھیں۔ فاسٹ فوڈ میں اکثر پتہ گوبھی کا استعمال کیا جاتا ہے، اور علمہ برگر و نوڈلس بہت زیادہ کھاتی تھی۔ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کے ڈاکٹر راہل کمار کا بھی کہنا ہے کہ پتہ گوبھی میں موجود کیڑا دماغ میں پہنچ کر گانٹھیں بنا سکتا ہے۔۔ منڈی دھنورا کے بلاک دفتر کے پاس رہنے والے ایک نوجوان کے دماغ میں بھی 15 سال قبل کیڑا ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔ نوجوان نے بتایا کہ سر میں درد ہونے پر ڈاکٹروں نے دماغ میں کیڑا ہونے کی بات کہی تھی۔ تب ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ پتہ گوبھی میں موجود کیڑے آنتوں کے ذریعہ دماغ میں پہنچ جاتے ہیں۔ حالانکہ وقت پر علاج مل جانے سے نوجوان کی جان بچ گئی، لیکن اسے 2 ماہ تک اسپتال میں رہ کر علاج کرانا پڑا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined