قومی خبریں

’جو ظلم ہم دیکھ رہے ہیں، وہ مٹھ والا کوئی بابا نہیں کر سکتا‘، سوامی اویمکتیشورانند کو نوٹس ملنے پر کانگریس ناراض

پون کھیڑا نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نوٹس دے کر کہتی ہے وہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو شنکراچاریہ نہیں مانتی۔ اس بیان سے ہندو سماج مغموم اور ناراض ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا، ویڈیو گریب</p></div>

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا، ویڈیو گریب

 

’’جو ظلم ہم اتر پردیش میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے دیکھ رہے ہیں، کیا وہ کوئی مٹھ والا بابا کر سکتا ہے؟ سَنت مٹھ والے ہوتے ہیں، سَنت لٹھ والے نہیں ہوتے ہیں۔ یہ لٹھ والے ہمارے ہندو مذہب پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ انھیں معاف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا و پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور ترجمان پون کھیڑا نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے دیا۔ انھوں نے سوامی اویمکتیشورانند کو نوٹس بھیجے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے یہ بیان دیا، اور ساتھ ہی کہا کہ ’’ایک طرف آج بی جے پی کا نیا صدر بغیر الیکشن کے منتخب کیا جا رہا ہے، دوسری طرف سَنتوں کے آنسو گر رہے ہیں۔‘‘

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے پریس کانفرنس کے دوران پریاگ راج ماگھ میلہ میں بدسلوکی کے بعد جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو نوٹس بھیجے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے حکومت کے ذریعہ بھیجے گئے اس نوٹس کو ہندو مذہب پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ ’’اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ نصف شب کو سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو نوٹس بھیجنا اور یہ کہنا کہ وہ انھیں شنکراچاریہ نہیں مانتی، تکبر کا عروج ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہندو سماج سمیت پورا ملک وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی خاموشی کو دیکھ رہا ہے۔ ہندو سماج اس حرکت کے لیے انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔‘‘

Published: undefined

کانگریس ترجمان نے بتایا کہ ’مونی اماوسیا‘ پر پریاگ راج ماگھ میلہ میں شاہی اَسنان کے لیے جا رہے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند کی پالکی کو پولیس نے روک دیا تھا۔ اس دوران پولیس کی مار پیٹ میں ان کے کئی شاگردوں کو چوٹیں آئی تھیں۔ اس بے عزتی کی مخالفت میں شنکراچاریہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے بغیر کھانا پانی کے شدید ٹھنڈ میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’معافی مانگنے کی جگہ نصف شب کو اتر پردیش انتظامیہ نے سوامی اویمکتیشورانند کو نوٹس بھیج کر پوچھا کہ وہ اپنے نام کے آگے شنکراچاریہ کیسے لکھ رہے ہیں؟‘‘

Published: undefined

پون کھیڑا نے اس عمل کو ’وِناش کالے وِپریت بدھی‘ (جب کسی کا برا وقت آتا ہے تو اس کی عقل کام نہیں کرتی) قرار دیا اور کہا کہ ’’کوئی ضلع مجسٹریٹ یا وزیر اعلیٰ یہ طے نہیں کر سکتا کہ کون شنکراچاریہ ہے؛ یہ مذہب کا داخلی معاملہ ہے۔‘‘ انھوں نے ویڈیو دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’جب تک سوامی جی بی جے پی کے ایجنڈے اور گائے کے گوشت جیسے معاملوں پر سوال نہیں اٹھاتے تھے، تب تک حکومت انھیں شنکراچاریہ مانتی تھی۔ جب انھوں نے رام مندر کی آدھی ادھوری ’پران پرتشٹھا‘ کی مخالفت کی، مہاکمبھ میں بدانتظامی پر سوال اٹھائے اور مودی حکومت کی مذمت کی، تو وہ بی جے پی حکومت کی نظروں میں شنکراچاریہ نہیں رہے۔ انھیں شاہی اَسنان کرنے سے روکا گیا۔‘‘

Published: undefined

پون کھیڑا نے 1954 کے ’شرور مٹھ‘ معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ مٹھ کی روایات اور انتظام و انصرام میں کسی کو مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ انھوں نے رات 12 بجے بھیجے گئے نوٹس کو قانون اور آئین کے آرٹیکل 25 و 26 کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ساتھ ہی اسے بے شرمی، بے حیائی اور بدتمیزی ٹھہرایا۔ کھیڑا کا کہنا ہے کہ ’’شنکراچاریہ صرف سناتن روایت کے مطابق گنگا میں غسل کرنا چاہتے ہیں، لیکن انھیں اس کے لیے اجازت لینے کو کہا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ سنتوں کے ساتھ غلط سلوک کیا جا رہا ہے، جبکہ ہندو مذہب کے خود ساختہ ٹھیکیداروں اور اقتدار حامی لوگوں کو خصوصی سیکورٹی و سہولیات مہیا کرائی جا رہی ہیں۔ آر ایس ایس جیسے اداروں کی سیکورٹی میں کروڑوں روپے خرچ کر دیے جاتے ہیں۔

Published: undefined

کانگریس ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت اب تک مسلمانوں سے کاغذ مانگتی تھی، اب ہندوؤں کے سَنت شرومنی سے کاغذ مانگ رہی ہے۔ انھوں نے طنز کستے ہوئے کہا کہ ’بٹیں گے تو کٹیں گے‘ کا نعرہ لگانے والے اب ہندو مذہب کو بھی بانٹ رہے ہیں۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’اتر پردیش میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں جو حادثات ہوئے ہیں، ان سے پورے ملک اور دنیا میں ہندو سماج مغموم اور ناراض ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined