
پولیس اہلکار اور سیکورٹی فورسز کے جوان / آئی اے این ایس
راجدھانی دہلی میں خفیہ ایجنسیوں کے الرٹ کے بعد سیکورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں دہلی میں بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں، جس کے پیش نظر بی جے پی کے مرکزی دفتر سمیت کئی اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت بڑھا دی گئی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے خاص طور پر دین دیال اپادھیائے مارگ پر واقع دفاتر اور حساس مقامات کو نشانے پر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
Published: undefined
خفیہ ذرائع کے مطابق دہشت گرد خودکش حملے، کار بم، اندھا دھند فائرنگ اور آئی ای ڈی دھماکوں جیسے طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملہ آور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
Published: undefined
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی یو مارگ پر خصوصی نگرانی رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہاں کئی سیاسی پارٹیوں اور میڈیا اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔ علاقے میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ گاڑیوں کی تلاشی، شناختی دستاویزات کی جانچ اور مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
Published: undefined
دہلی پولیس نے شہر کے حساس علاقوں میں گشت بڑھا دیا ہے۔ اہم سرکاری عمارتوں، عوامی مقامات، میٹرو اسٹیشنوں، بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر اضافی فورس تعینات کی گئی ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور اسپیشل سیل کی ٹیمیں بھی متحرک کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
Published: undefined
سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام ایجنسیاں باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ خفیہ الرٹ کے بعد دہلی میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں خاص طور سے تشویش پائی جا رہی ہے۔ حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں سیکورٹی مزید سخت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined