
آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)
آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں ایران نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ ناکہ بندی کی صورت میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے ساتھ والی بات چیت ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے عرب اور عمان کی خلیج میں ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے مختلف ممالک کے جہازوں پر ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
Published: undefined
امریکی بحریہ کے جنگی جہاز اس وقت عمان کی خلیج میں مسلسل گشت کر رہے ہیں، جسے ایران اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔ اسی پس منظر میں ایران کے اعلیٰ رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کی کوشش کرتا ہے تو ایرانی افواج بھرپور جواب دیں گی اور امریکی جہاز پہلی ہی میزائل حملے میں تباہ ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
محسن رضائی، جنہیں گزشتہ ماہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا فوجی مشیر مقرر کیا تھا، نے اپنے بیان میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ خود کو دنیا کا نگراں سمجھتا ہے اور کیا یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں پولیس کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جیسی بڑی فوجی طاقت کو اس طرح کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے اپنے بیان میں محسن رضائی نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہاز ایرانی میزائلوں کی زد میں ہیں اور ایران کے پاس انہیں تباہ کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرتا ہے تو ایران اس کا بھی بھرپور جواب دے گا اور ہزاروں امریکی فوجیوں کو قیدی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر قیدی کے بدلے بھاری تاوان کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں بات چیت، کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی قوانین کا احترام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا اس وقت گہرے جغرافیائی سیاسی تناؤ، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور کم ہوتے اعتماد کے دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
اسی سلسلے میں پوپ لیو نے بھی عالمی امن کے لیے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا جنگ اور تشدد سے تنگ آ چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت اور دھمکی کے بجائے محبت، انصاف اور باہمی اعتماد پر مبنی امن کو فروغ دیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں جنگ کے نتائج، جن میں ہلاکتیں، تباہی اور بے دخلی شامل ہیں، مزید برداشت کے قابل نہیں رہے، اس لیے تمام فریقین کو فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی سمت قدم اٹھانے چاہئیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined