قومی خبریں

تیجسوی یادو نے پرنس یادو کی مشتبہ موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا

تیجسوی یادو نے پٹنہ میں دو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان جھگڑے اور نیپال میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک روشن آنند کے بھائی پرنس یادو کی مشتبہ موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے پٹنہ میں دو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان جھگڑے اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک روشن آنند کے بھائی پرنس یادو کی مشتبہ موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو ایک خط لکھ کر اس کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے۔

Published: undefined

تیجسوی یادو نے اپنے خط میں کہا ہے کہ چند روز قبل بہار کی راجدھانی پٹنہ میں دو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان جھگڑا مبینہ تشدد، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کا باعث بنا۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک روشن آنند کے بھائی پرنس یادو کی نیپال میں مشتبہ حالات میں موت کی خبر کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔

Published: undefined

اس واقعہ نے عوام میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور پورے معاملے پر بحث چھیڑ دی ہے۔ تیجسوی یادو نے ریاستی حکومت اور بہار پولیس کے کام کاج پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں تحقیقات اور کارروائی میں حکومت اور پولیس کی غیر جانبداری پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔

Published: undefined

ایسے میں سچائی کو عوام کے سامنے لانے اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ایک آزاد ایجنسی سے تحقیقات ضروری ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعلیٰ  پر زور دیا کہ وہ عوامی جذبات اور معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پورے معاملے کو سی بی آئی کو سونپ دیں، تاکہ تمام پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ، مؤثر طریقے سے اور مکمل جانچ کی جاسکے۔

Published: undefined

تیجسوی یادو نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جو بھی قصوروار پایا جائے اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات سے ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور پورے معاملے کی حقیقت سامنے آئے گی۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined