قومی خبریں

ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ: تیجسوی یادو نے بہار حکومت سے پوچھے 20 سوال، غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

تیجسوی یادو نے ریشو شری ٹینڈر گھوٹالے پر این ڈی اے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے 20 سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف چھوٹے افسران پر کارروائی ہو رہی ہے جبکہ بااثر افراد کو بچایا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو</p></div>

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو

 

پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی پرساد یادو نے ’ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ‘ کو لے کر ریاست کی این ڈی اے حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے 20 سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے اس گھوٹالے میں صرف نچلے درجے کے افسران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ اعلیٰ افسران اور سیاسی سرپرستی حاصل افراد کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

Published: undefined

تیجسوی یادو نے پیر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایک عام ٹھیکیدار برسوں تک مختلف سرکاری محکموں کے ٹینڈروں پر اثر انداز کیسے ہوتا رہا اور سرکاری نگرانی کا نظام اس دوران کیا کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تفتیشی ایجنسیوں کے سامنے آئے چیٹ ریکارڈ درست ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو اعلیٰ سطح کی سرپرستی حاصل تھی، اس لیے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ وہ کس کے اشارے پر افسران کو ہدایات دیتا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دو آئی اے ایس افسران کی معطلی کے باوجود نہ ان کی گرفتاری ہوئی اور نہ ہی ان کے نام چارج شیٹ میں شامل کیے گئے۔ تیجسوی یادو کے مطابق جانچ میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سرکاری بل منظور کرانے اور ٹینڈر دلانے کے عوض دو سے ساڑھے تین فیصد تک کمیشن لیا جاتا تھا۔ اگر یہ الزام درست ہے تو حکومت کی "زیرو ٹالرنس" پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریشو شری اور اس سے وابستہ تمام کمپنیوں کو ملنے والے سرکاری ٹینڈروں کی عدالتی نگرانی میں آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کے مالی لین دین، سرکاری معاہدوں اور دیگر ریاستوں، خصوصاً گجرات سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے کردار کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

تیجسوی یادو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چھاپوں کے دوران ملزم کے قبضے سے 99 جائیدادوں کے کاغذات، کروڑوں روپے نقد اور بڑی مقدار میں زیورات برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ٹھیکیدار کے پاس اتنی بڑی دولت کہاں سے آئی اور حکومت کو اگر پہلے سے معاملے کی اطلاع تھی تو ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔

Published: undefined

ریشو شری گھوٹالہ کیا ہے؟

ریشو شری گھوٹالہ دراصل بہار میں سامنے آنے والا ایک ٹینڈر اور کمیشن کا معاملہ ہے۔ الزام ہے کہ ریشو شری نامی ٹھیکیدار اور اس سے وابستہ متعدد کمپنیوں نے مختلف سرکاری محکموں میں اثر و رسوخ قائم کر کے ٹھیکے حاصل کیے۔ تفتیش میں ایسے چیٹ، مالی لین دین اور دیگر شواہد سامنے آئے ہیں جن سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض سرکاری افسران کو تحائف، غیر ملکی دوروں اور دیگر مراعات کے ذریعے فائدہ پہنچایا گیا تاکہ مخصوص کمپنیوں کو سرکاری ٹینڈر مل سکیں۔

قائدِ حزبِ اختلاف نے مطالبہ کیا کہ اس گھوٹالے میں ملوث تمام افسران، سیاسی سرپرستوں اور متعلقہ محکموں کے کردار کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined