
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو
بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو نے ریزرویشن کے معاملے پر این ڈی اے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزرا چراغ پاسوان اور جیتن رام مانجھی سمیت دیگر رہنماؤں کو چیلنج دیا کہ اگر وہ ریزرویشن کے خلاف ہیں تو پہلے اپنی ریزرو نشستوں سے استعفیٰ دیں اور عام نشستوں سے الیکشن لڑ کر دکھائیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ اب تک کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو ریزرویشن ختم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود نہ کبھی ریزرویشن کا استعمال کیا اور نہ ہی اس کا فائدہ اٹھایا، لیکن جیتن رام مانجھی اور چراغ پاسوان مسلسل ریزرو نشستوں سے انتخابات لڑتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ریزرویشن کے معاملے پر اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔
تیجسوی نے الزام لگایا کہ جو لوگ ریزرویشن ختم کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ جیتن رام مانجھی، چراغ پاسوان، اپیندر کشواہا اور نتیش کمار کی جماعتیں کھڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بی جے پی ہمیشہ سے ریزرویشن کی مخالف رہی ہیں۔
آر جے ڈی رہنما نے کہا، ’’اگر ان لوگوں میں دم ہے تو ریزرو نشستوں سے استعفیٰ دے کر عام نشستوں سے الیکشن لڑیں۔‘‘ ان کے مطابق ایک طرف یہ رہنما ریزرویشن کا فائدہ اٹھا کر اقتدار اور وزارتوں تک پہنچتے ہیں اور دوسری طرف ریزرویشن ختم کرنے یا اس کی نظرثانی کی بحث میں شامل ہوتے ہیں۔
تیجسوی یادو نے الزام لگایا کہ این ڈی اے کے بعض رہنما اپنے سماج کے مفاد کے بجائے اقتدار اور عہدوں کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی توجہ سماجی مفاد سے زیادہ عہدے، سرکاری بنگلے اور سکیورٹی پر ہے۔ انہوں نے 2015 میں آر ایس ایس کے اس وقت کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے ریزرویشن پالیسی پر نظرثانی کے مطالبے کا بھی حوالہ دیا۔ تیجسوی نے کہا کہ اس وقت بہار کے عوام نے اس کا سخت جواب دیا تھا۔
ریزرویشن کے معاملے پر جاری حالیہ سیاسی تنازع کے پس منظر میں انہوں نے بی جے پی پر بھی پردے کے پیچھے رہ کر پورے معاملے کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق بی جے پی خاموش رہ کر یہ دیکھ رہی ہے کہ عوام کا ردعمل کیا ہوتا ہے اور ’’پانی میں کنکر ڈال کر‘‘ عوامی ردعمل جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا، ریزرویشن ختم کرنے کے مطالبے کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج جاری ہے۔ حال ہی میں مرکزی وزیر اور بی جے پی کے رہنما جے پی نڈا نے بھی احتجاج کرنے والوں سے ملاقات کی تھی۔ ریزرویشن کے معاملے نے بہار میں پہلے ہی جاری سیاسی کشمکش کو مزید تیز کر دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔