قومی خبریں

تیج پرتاپ یادو نے خالی کردی سرکاری رہائش گاہ، بی جے پی نے لگایا بنگلے کو کھنڈر بنانے کا الزام

سرکاری رہائش گاہ سے متعلق سابق ممبراسمبلی تیج پرتاپ یادو پر ریاستی وزیر اور بی جے پی لیڈرلکھیندر پاسوان کی طرف سے لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد اب یہ معاملہ ریاست کی سیاست میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جے جے ڈی&nbsp; لیڈر تیج پرتاپ یادو</p></div>

جے جے ڈی  لیڈر تیج پرتاپ یادو

 
تصویر آئی اے این ایس

جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ اور سابق ایم ایل اے تیج پرتاپ یادو نے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی کر دی ہے۔ انہوں نے پٹنہ میں 26 ایم اسٹرینڈ روڈ پر واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی کر دی ہے۔ بطور ممبراسمبلی وہ اس سرکاری رہائش گاہ میں رہتے تھے۔ یہ رہائش گاہ اب بی جے پی کوٹے کے وزیر لکھیندر پاسوان کو الاٹ کر دی گئی ہے۔ اس دوران لکھیندر پاسوان نے الزام لگایا کہ اس سرکاری رہائش گاہ سے پنکھے، کرسیاں، فرنیچر، ایئر کنڈیشنر اور بلب سمیت کئی دیگر سرکاری سامان غائب ہیں۔

Published: undefined

بی جے پی کے وزیر لکھیندر پاسوان نے تیج پرتاپ یادو پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بنگلہ کھنڈر بن چکا ہے۔ ہفتہ (31 جنوری) کو بنگلے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے کئی الزامات لگائے، وہیں بنگلے کو لے کر تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ وزیر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بنگلے کی حالت اتنی خراب ہے کہ اس میں رہ پانا مشکل ہے، کھنڈر ہے، چھت ٹوٹی ہوئی ہے، بنگلہ خستہ حال ہے۔ لکیندر پاسوان نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو عوامی خدمت کے لیے جو فرنیچر اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں وہ سبھی سرکاری ملکیت ہوتی ہیں جنہیں رہائش خالی کرتے وقت اسی طرح چھوڑ نا ہوتا ہے۔

Published: undefined

لکھیندر پاسوان نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر سابق ایم ایل اے تیج پرتاپ نے ان سہولیات کا مطالبہ کیا تھا تو اب وہ چیزیں کہاں گئی ہیں؟ یہ سوال تیج پرتاپ یادو سے کیا جانا چاہیے۔ وزیر کے مطابق انہوں نے بلڈنگ کنسٹرکشن ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کر دیا ہے جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

Published: undefined

لکھیندر پاسوان کے الزامات پر تیج پرتاپ یادو کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ ان الزاما پر جے جے ڈی سربراہ تیج پرتاپ یادو کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ لکھیندر پرتاپ کے الزامات کے بعد یہ معاملہ ریاست کی سیاست میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined