
ایف آئی آر / آئی اے این ایس
مدھیہ پردیش کے جبل پور میں واقع اسپیشل آرمڈ فورسز (ایس اے ایف) کی چھٹی بٹالین رانجھی میں تقریباً 3 کروڑ روپے کے سفری الاؤنس (ٹی اے) گھپلے کا پردہ فاش ہوا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایس اے ایف میں تعینات کچھ فوجیوں اور عملے نے فرضی سفری بلوں کے ذریعے اپنی تنخواہ سے 200 گنا زیادہ سفری الاؤنس حاصل کیا۔ اس معاملے میں ایک اے ایس آئی، کئی کانسٹیبل اور ایک مردہ کانسٹیبل سمیت 15 افراد کے خلاف رانجھی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
Published: undefined
ایس اے ایف کے داخلی آڈٹ میں کچھ فوجیوں کے کھاتوں میں غیرمعمولی اور غیر متوازن ادائیگیوں کا انکشاف ہوا۔ کئی معاملات میں یہ رقم جوانوں کی کل ماہانہ تنخواہ سے کئی گنا زیادہ تھی۔ اس کے بعد سینئر افسران کی ہدایت پر تفصیلی چھان بین کی گئی جس میں 19-2018 سے چل رہے فرضی ٹی اے گھپلے کا انکشاف ہوا۔ جانچ میں ایس اے ایف کے دفتر میں تعینات ایل ڈی سی ستیم شرما کو اس گھپلے کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ستیم شرما نے فرضی ٹی اے-ڈی اے بل تیار کیے، انہیں سسٹم میں انٹری کر کے پاس کرایا اور بدلے میں متعلقہ جوانوں سے کمیشن لیا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سے ستیم شرما فرار ہے اور اس کی تلاش کی جاری ہے۔
Published: undefined
تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ ایس اے ایف کانسٹیبل ابھیشیک جھاریا کے اکاؤنٹ میں 582 سفری الاؤنس بلوں کے ذریعہ تقریباً 55 لاکھ روپے جمع کیے گئے جب کہ اس کی کل تنخواہ اور بقایا جات تقریباً 26 لاکھ روپے تھے۔ بعد ازاں تحقیقات اور معطلی کی کارروائی کے درمیان ابھیشیک جھاریا نے ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کرلی۔ اس کے باوجود اس کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔
Published: undefined
بینک کھاتوں کی جانچ میں کئی دیگر ایس اے ایف جوانوں کے بینک کھاتوں میں بھی بڑی رقم کاانکشاف ہوا۔ جن میں راہل ساہو (33.19 لاکھ روپئے)، نتیش کمار پٹیل (30.51 لاکھ روپئے)، نتیش دھروے (28.70 لاکھ روپئے)، دیویندر کمار (27.92 لاکھ روپئے)، استک شکلا (24.88 لاکھ روپئے)، دیویندر سنگھ (20.36 لاکھ روپئے)، راکیش جوشی (17.23 لاکھ روپئے)، گلشن سنگھ (14.98 لاکھ روپئے)، جتیندر جھاریا (24.88 لاکھ روپئے)، سنیل وشوکرما (12.79 لاکھ روپئے) اور وشال کمار (11.65 لاکھ روپئے) کے اکاؤنٹس میں بھی بڑی رقم کا انکشاف ہوا ہے۔
Published: undefined
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایک ایسے کانسٹیبل کے نام پر سفری الاؤنس نکالا گیا جس کی پہلے ہی موت ہوچکی تھی۔ پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ متوفی کے اکاؤنٹ سے رقم کس نے اور کس عمل کے ذریعے نکالی۔ اس کیس میں ایک اے ایس آئی کا کردار بھی مشکوک پایا گیا ہے جس پر بلوں کی تصدیق اور منظوری کرانے میں لاپرواہی یا ملی بھگت کا الزام ہے۔ اے ایس آئی سمیت کل 15 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined