قومی خبریں

آسام کے وزیر اعلیٰ کے نفرت انگیز بیانات اور متنازع ویڈیو، سپریم کورٹ میں 16 فروری کو اہم سماعت

سپریم کورٹ 16 فروری کو آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور متنازع ویڈیو پر ایف آئی آر اور ایس آئی ٹی کی تشکیل کی مانگ سے متعلق عرضیوں پر سماعت کرے گا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ 16 فروری کو آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف دائر متعدد عرضیوں پر سماعت کرے گی۔ ان عرضیوں میں ان کے نفرت انگیز بیانات اور ایک متنازع ’پوائنٹ بلینک‘ ویڈیو کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

Published: undefined

خیال رہے کہ حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی آسام کے سرکاری ایکس ہینڈل سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں وزیر اعلیٰ کو ان افراد پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا جو بظاہر مسلم برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور تنقید بڑھنے پر اسے ہٹا لیا گیا۔

Published: undefined

دو عرضیاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ اور اینی راجہ، رہنما کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ ان میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’پوائنٹ بلینک‘ ویڈیو اور سابقہ بیانات کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ ریاستی اور مرکزی ایجنسیاں غیر جانب دار جانچ کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے آزاد ایس آئی ٹی کی تشکیل ضروری ہے۔

Published: undefined

ایک اور عرضی چار آسام سے تعلق رکھنے والے افراد نے دائر کی ہے، جن میں ڈاکٹر ہیرین گوہین، ہریکشن ڈیکا، پریش چندر ملاکار اور سینئر وکیل سنتانو بورتھاکر شامل ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ نے آسام میں مسلم برادری، خاص طور پر بنگالی نژاد مسلمانوں کے خلاف بارہا اشتعال انگیز اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانات دیے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ’میاں‘ اور ’بنگلہ دیشی‘ جیسے الفاظ توہین آمیز انداز میں استعمال کیے گئے اور سماجی و معاشی بائیکاٹ کی اپیل بھی کی گئی۔

Published: undefined

اس کے علاوہ 12 افراد کی جانب سے دائر ایک رٹ عرضی میں ’میاں مسلمان‘ اور ’فلڈ جہاد‘ جیسی اصطلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے آئینی عہدوں پر فائز افراد کو فرقہ وارانہ بیان بازی سے روکنے کے لیے رہنما خطوط جاری کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے بھی سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ آئینی مناصب پر بیٹھے افراد کو تقسیم پیدا کرنے والے بیانات دینے سے روکنے کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جائیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined