قومی خبریں

میٹا اور واٹس ایپ کی 213 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف اپیل، سپریم کورٹ میں آج سماعت

سپریم کورٹ میٹا اور واٹس ایپ کی جانب سے سی سی آئی کے 213 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کرے گا۔ سابقہ سماعت کے دوران عدالت نے ڈیٹا شیئرنگ اور شہریوں کی رازداری پر سخت ریمارکس دیے تھے

واٹس ایپ / آئی اے این ایس
واٹس ایپ / آئی اے این ایس 

نئی دہلی: سپریم کورٹ پیر کو میٹا پلیٹ فارم اور واٹس ایپ کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کرے گا، جن میں بھارتی مسابقتی کمیشن یعنی سی سی آئی کی طرف سے عائد کردہ 213.14 کروڑ روپے کے جرمانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ جرمانہ واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں لگایا گیا تھا۔

Published: undefined

چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل ہیں، اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ اس سے قبل 3 فروری کو عدالت نے دونوں کمپنیوں پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیٹا شیئرنگ کے نام پر شہریوں کے حقِ رازداری سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ بڑی ڈیجیٹل کمپنیاں اجارہ داری کی کیفیت پیدا کر رہی ہیں اور صارفین کی نجی معلومات کے استعمال کے حوالے سے احتیاط لازم ہے۔

Published: undefined

سماعت کے دوران عدالت نے ’خاموش صارفین‘ کا ذکر کیا تھا، جن سے مراد وہ غیر منظم اور ڈیجیٹل نظام پر منحصر افراد ہیں جو ڈیٹا شیئرنگ کے ضوابط اور ان کے اثرات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ بنچ نے واضح کیا تھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔

Published: undefined

یہ تنازع سی سی آئی کے اس حکم سے جڑا ہے جس میں واٹس ایپ پر اس کی پرائیویسی پالیسی کے سلسلے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 4 نومبر 2025 کو نیشنل کمپنی لا اپیلیٹ ٹریبونل نے سی سی آئی کے حکم کے ایک حصے کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس میں واٹس ایپ کو پانچ برس تک اشتہاری مقاصد کے لیے میٹا کے ساتھ صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے سے روکا گیا تھا، تاہم مالی جرمانہ برقرار رکھا گیا تھا۔

Published: undefined

ٹریبونل نے اپنے وضاحتی حکم میں کہا تھا کہ رازداری اور رضامندی سے متعلق حفاظتی نکات کا اطلاق صرف اشتہارات تک محدود نہیں بلکہ دیگر سرگرمیوں پر بھی ہوگا۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں سی سی آئی کی جانب سے دائر متقابل اپیل پر بھی غور کرے گی، جس میں ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت اس مقدمے کو شہریوں کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل مسابقت کے تناظر میں اہم قرار دے رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined