قومی خبریں

مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے خلاف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی عرضی، سپریم کورٹ میں آج سماعت

بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے رہنماؤں کی جانب سے ایس آئی آر کے خلاف دائر عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ عرضی میں الیکشن کمیشن پر سیاسی جانبداری کا الزام عائد کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے متعدد رہنماؤں کی جانب سے دائر عرضی پر سپریم کورٹ میں منگل کو یعنی آج سماعت ہوگی۔ اس عرضی میں ریاست میں جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری فہرست کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ اس بنچ میں جسٹس آر مہادیون اور جسٹس جوئے مالیا باگچی بھی شامل ہیں۔ عدالت ممتا بنرجی کے ساتھ ساتھ ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ ڈولا سین اور ڈیرک اوبرائن کی جانب سے دائر عرضیوں پر بھی غور کرے گی۔

Published: undefined

اپنی عرضی میں ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر سیاسی جانبداری کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کی جا رہی ہے اس سے سماج کے حاشیے پر رہنے والے لاکھوں افراد کے نام ووٹر فہرست سے خارج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عمل میں ایسے اقدامات یقینی بنائے جائیں جن سے حقیقی ووٹروں کے نام فہرست سے نہ ہٹائے جائیں۔

ممتا بنرجی کا مؤقف ہے کہ یہ عمل کمزور اور پسماندہ طبقات کو غیر متناسب طور پر متاثر کر سکتا ہے، اس لیے عدالت کو مداخلت کرتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔

Published: undefined

اس معاملے کی گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ ووٹروں کی جانب سے دائر دعووں اور اعتراضات کے فیصلے کے عمل میں عدالتی افسران کو بھی شامل کیا جائے تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی تناظر میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایڈیشنل ضلع جج رینک کے موجودہ اور چند ریٹائرڈ عدالتی افسران کو نامزد کریں۔ یہ افسران ووٹروں کی جانب سے دائر دعووں اور اعتراضات کے تصفیے میں مدد کریں گے۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے افسران اور مغربی بنگال حکومت اس عمل کو مکمل کرنے میں عدالتی افسران کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ عدالت نے ضرورت کے پیش نظر جھارکھنڈ اور اڑیسہ سمیت پڑوسی ہائی کورٹس کے عدالتی افسران کو بھی مغربی بنگال میں تعینات کرنے کی اجازت دی تھی تاکہ زیر التوا معاملات کے تصفیے میں تیزی لائی جا سکے۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ووٹر فہرست کی نظرثانی کے دوران تقریباً 80 لاکھ درخواستیں ایسی ہیں جن پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ اس قدر بڑی تعداد میں درخواستوں کے تصفیے کے لیے صرف تقریباً 250 عدالتی افسران دستیاب ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined