قومی خبریں

جَنک فوڈ کے پیکٹ پر وارننگ لیبل کو لے کر سپریم کورٹ سخت، مرکز کو 2 ہفتے کا الٹی میٹم

عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ’’لوگوں کی صحت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مرکز خود اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے تو اچھی بات ہے، ورنہ عدالت آئندہ کے لیے ضروری ہدایات جاری کرے گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

سپریم کورٹ نے بچوں اور بڑوں میں موٹاپا کہ بڑھتے مسائل کے درمیان جَنک فوڈ کے پیکٹ پر سامنے کی جانب وارننگل لیبل لگانے کے معاملےمیں مرکزی حکومت کو 2 ہفتے کا وقت دیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ لوگوں کی صحت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے کہا کہ اگر مرکز خود اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے تو اچھی بات ہے، ورنہ عدالت آئندہ کے لیے ضروری ہدایات جاری کرے گی۔

واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ غیر سرکاری تنظیم ’3ایس اینڈ آور ہیلتھ سوسائٹی‘ کی جانب سے داخل مفاد عامہ کی عرضی سے متعلق ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے زیادہ نمک، چینی، سیچوریٹڈ فیٹ اور کیلوری والی غذائی اشیاء سے صحت کو ہونے والے نقصان کا بھی ذکر کیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو صحت بخش متبادل منتخب کرنے میں مدد کرنے کے لیے غذائی مصنوعات پر واضح غذائی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔

فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بچوں اور بڑوں میں موٹاپے کا مسئلہ گزشتہ 20 سالوں میں 5 گنا تک بڑھ گیا ہے۔ 2000 سے 2022 کے درمیان اسکول جانے والے بچوں اور نوعمروں میں موٹاپے کی شرح 2 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی۔ اسی بڑھتے ہوئے مسائل کے درمیان جَنک فوڈ کے پیکٹ پر سامنے کی جانب وارننگ لیبل لگانے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا ہے۔ عرضی گزار کے وکیل راجیو شنکر دویدی نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن اب تک حکومت نے اس سمت میں کچھ نہیں کیا۔ ان کے مطابق جَنک فوڈ کے استعمال سے لوگوں کی صحت بگڑ رہی ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکز کے ان دلائل سے بھی اتفاق نہیں کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی معیارات خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کے معیارات کے برابر ہونا ممکن نہیں ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ ’’اس دلیل کے مطابق تو کیا ہندوستان کو ایک غیر ترقی یافت ملک بنے رہنا چاہیے۔‘‘ جسٹس جے بی پاردی والا نے کہا کہ یہی وہ سوال ہے جسے بنچ مرکزی حکومت کے غور کے لیے پیش کر رہا ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے اپنے حکم میں غذائی تحفظ کے مسئلے کو آئین کی دفعہ 21 کے تحت دی گئی زندگی کے حق سے جوڑا ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت جَنک فوڈ مصنوعات کے پیکٹ کے سامنے وارننگ لیبل لگانے حق میں نظر نہیں آ رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ زیادہ نمک، چینی، سیچوریٹڈ فیٹ اور کیلوری والی غذائی اشیاء صحت کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔ ایسے میں صارفین کو صحت بخش متبادل منتخب کرنے میں مدد دینے کے لیے واضح غذائی معلومات درج کرنا ضروری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق ہندوستان کی الٹرا پروسیسڈ فوڈ مارکیٹ میں 2009 سے 2023 کے درمیان 150 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی مدت میں موٹاپے میں مبینہ طور پر 5 گنا تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے میں جَنک فوڈ کی پیکیجنگ پر وارننگ اور غذائی معلومات کو لے کر سپریم کورٹ کی سختی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔