قومی خبریں

تین زبانوں کی لازمی تعلیم سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ کا مرکز اور سی بی ایس ای سے جواب طلب

سپریم کورٹ نے سی بی ایس ای کے 3 زبانوں کے ضابطے کے خلاف دائر عرضی پر مرکز، سی بی ایس ای اور این سی ای آر ٹی سے جواب طلب کیا۔ عدالت نے فوری روک سے انکار کرتے ہوئے جولائی میں تفصیلی سماعت کا فیصلہ کیا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے ترمیم شدہ تین زبانوں کے ضابطے کی قانونی حیثیت سے متعلق دائر عرضی پر مرکز، سی بی ایس ای اور قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (این سی ای آر ٹی) سے جواب طلب کر لیا۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کی سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے میں مقرر کرتے ہوئے فی الحال اس ضابطے کے نفاذ پر کسی بھی قسم کی عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا۔

Published: undefined

یہ معاملہ سی بی ایس ای کے 15 مئی کے سرکلر سے متعلق ہے، جس کے تحت موجودہ تعلیمی سیشن سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے کم از کم دو ہندوستانی زبانوں سمیت تین زبانوں کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس ضابطے کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور قومی نصابی خاکہ برائے اسکولی تعلیم 2023 کے مطابق نافذ کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت، سی بی ایس ای اور این سی ای آر ٹی سے تفصیلی جواب داخل کرنے کو کہا۔

Published: undefined

سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت کو بتایا کہ یکم جولائی سے تین زبانوں کی لازمی تعلیم کا ضابطہ نافذ ہونے جا رہا ہے لیکن زمینی سطح پر اس کے لیے ضروری تیاریوں کا فقدان ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ کئی مقامات پر درسی کتابیں بھی دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ اور اسکولوں کو عملی دشواریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس معاملے سے متعلق ایک دوسری عرضی میں سینئر وکیل کپل سبل نے مؤقف اختیار کیا کہ زبان انتخاب کا معاملہ ہے اور اسے طلبہ پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے وفاقی نظام سے بھی تعلقات جڑے ہوئے ہیں اور اس کے آئینی پہلوؤں پر غور ضروری ہے۔

Published: undefined

تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر وہ وفاقی نظام کے سوالات کا جائزہ نہیں لے رہی، بلکہ بنیادی توجہ نفاذ سے متعلق عملی معاملات، جیسے اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی مواد کی فراہمی پر مرکوز ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے فوری عبوری راحت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تفصیلی سماعت بعد میں کی جا سکتی ہے، کیونکہ پالیسی کا نفاذ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے تابع رہے گا۔

Published: undefined

سی بی ایس ای نے اپنے سرکلر میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ طلبہ تیسری زبان کے طور پر غیر ملکی زبان کا انتخاب کر سکتے ہیں، بشرطیکہ دیگر دو زبانیں ہندوستانی ہوں۔ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک نئی درسی کتابیں دستیاب نہیں ہوتیں، تب تک نویں جماعت کے طلبہ کے لیے چھٹی جماعت کی زبان کی کتابوں سے عارضی طور پر مدد لی جائے گی۔ ساتھ ہی دسویں جماعت میں تیسری زبان کے لیے کوئی بورڈ امتحان نہیں ہوگا اور اس کا جائزہ داخلی سطح پر کیا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined