قومی خبریں

اتر پردیش میں انتخابی ٹکٹوں کی خرید و فروخت معاملہ پر سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینے سے سپریم کورٹ کا انکار

سپریم کورٹ نے سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے عرضی گزار کو اس معاملے میں الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

اتر پردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس درمیان سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ سیاسی جماعتیں انتخابی ٹکٹوں کی خرید و فروخت کر رہی ہیں۔ عرضی میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے اس سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے عرضی گزار کو اس معاملے میں الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اسی معاملے میں مفاد عامہ کی عرضی خارج کر دی تھی۔ عدالت نے کہا کہ سوشل میڈیا کی رپورٹوں کی بنیاد پر تحقیقات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اسے اس بات پر شبہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ الیکشن کمیشن ان شکایات کے ازالے کے لیے اقدامات نہیں کرے گا۔ ’سوراج واہنی ایسوسی ایشن‘ کی جانب سے یہ عرضی دائر کی گئی تھی۔ عرضی میں سوشل میڈیا پر نشر کیے گئے بعض ’اسٹنگ آپریشنز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا تھا کہ اتر پردیش کی کچھ غیر تسلیم شدہ اور علاقائی سیاسی جماعتیں مبینہ طور پر پیسے لے کر انتخابی ٹکٹ دے رہی تھیں۔ عرضی میں اس پورے معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عرضی میں الیکشن کمیشن، مرکزی حکومت کے علاوہ اتر پردیش کی نشاد پارٹی، سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی، اپنا دل (سونے لال) اور جن جنوادی پارٹی (سوشلسٹ) کو بھی پارٹی بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ اس سے قبل 7 ستمبر 2026 کو الہ آباد ہائی کورٹ بھی اسی معاملے میں دائر مفاد عامہ کی عرضی خارج کر چکا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ صرف سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹوں یا اسٹنگ آپریشنز کی بنیاد پر عدالت سے براہ راست تحقیقات کے احکامات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔