قومی خبریں

سپریم کورٹ کا شراب کی دکانوں اور اسکولوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے پر اتر پردیش حکومت کو نوٹس

بینچ نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ ریاست اتر پردیش نے عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے اور ہائی کورٹ نے اس کے برعکس فیصلہ دے کر غلطی کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویرآئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویرآئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت سے شراب کی دکانوں اور اسکولوں سمیت حساس عوامی مقامات کے درمیان کم از کم فاصلے میں کمی کرنے کے فیصلے پر جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بینچ نے جمعہ کو کہا کہ ریاست کا یہ قدم قانونی مداخلت کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔

Published: undefined

عدالت نے کہا کہ بادی النظر ایسا لگتا ہے کہ اتر پردیش حکومت نے سابقہ فیصلے کی بنیاد کو ختم کیے بغیر متعلقہ ضابطوں میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ کے ایک لازمی اور پابند فیصلے کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بینچ نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ ریاست اتر پردیش نے عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے اور ہائی کورٹ نے اس کے برعکس فیصلہ دے کر غلطی کی ہے۔ اس عدالت کے ایک پابند فیصلے کو ضابطہ بنانے والا اختیار اس کی بنیاد کو ختم کیے بغیر غیر مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Published: undefined

اس معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا اور پوچھا کہ جس طرح اتر پردیش ایکسائز (شراب کی دکانوں کی تعداد اور مقام) قواعد، 1968 کے قاعدہ 5(4) میں ترمیم کی گئی ہے، اسے قانونی مداخلت قرار دے کر منسوخ کیوں نہ کر دیا جائے؟ سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو سات دن کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ سنگین عوامی مفاد سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ہم اتر پردیش ریاست کو خود نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رہے ہیں۔

Published: undefined

یہ حکم اتر پردیش ریاست کی ایک سیول اپیل پر دیا گیا، جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 2 فروری 2010 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں 2008 میں ترمیم شدہ 1968 کے ضابطے کے قاعدہ 5(4) کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس ترمیم کو غیر قانونی قرار دیا تھا، لیکن اس نے یہ مانا تھا کہ یہ ترمیم سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کی توہین نہیں ہے، جس میں کم از کم فاصلے کی حد زیادہ مقرر کی گئی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined