
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے جھوٹی شکایات اور فرضی مجرمانہ مقدمات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ مجرمانہ طریقۂ کار کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے، اور وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرے گی کہ ایسا کرنے پر کچھ لوگ اس کی تنقید کریں گے۔
Published: undefined
عدالت نے جس عرضی پر یہ قدم اٹھایا ہے اسے وکیل اور بی جے پی رہنما اشونی کمار اپادھیائے نے داخل کیا ہے۔ اپنے معاملے کی خود پیروی کرتے ہوئے اپادھیائے نے کہا کہ فرضی مقدمات کی وجہ سے ایماندار لوگ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ ان مقدمات کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ اکثر سِول معاملات میں مجرمانہ معاملہ درج کروا دیا جاتا ہے۔ گاؤں میں اگر زمین کا جھگڑا ہو، تو اسے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ جیسے سنگین مجرمانہ معاملات میں بدل دیا جاتا ہے یا پھر خواتین کو آگے کر کے چھیڑ چھاڑ یا ریپ کا جھوٹا معاملہ درج کروا دیا جاتا ہے۔
Published: undefined
عرضی میں اٹھائے گئے موضوع پر سماعت کو ضروری قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی 3 ججوں کے بنچ نے کہا کہ ’’لوگ نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ایک بیدار معاشرہ بنانے کی ضرورت ہے، جہاں لوگ اپنے پڑوسیوں کے بنیادی حقوق کے تئیں بھی حساس ہوں۔ بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دینا ضروری ہے۔‘‘
Published: undefined
اس کے بعد چیف جسٹس نے ایک اور کڑوے سچ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص کو شکایت کنندہ دکھایا جاتا ہے، کئی بار اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے نام سے شکایت درج کی گئی ہے۔ امیر اور بااثر لوگ جعلی دستخطوں کے ذریعے غریبوں کا استحصال کرتے ہیں۔ ہمیں اس پر بھی سوچنا ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک حالیہ معاملے کی مثال دی جس میں ایک خاتون نے خود آکر کہا کہ ایک سیاسی لیڈر کا اس کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ اس کے نام پر لیڈر کے خلاف فرضی شکایت درج کی گئی ہے۔
Published: undefined
عرضی گزار نے مرکز اور ریاستوں کو فرضی شکایات کے خلاف حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی جانب سے دی گئی اہم تجاویز درج ذیل ہیں:
پولیس اسٹیشنوں، عدالتوں اور پنچایتوں میں معلوماتی بورڈ لگائے جائیں۔ ان میں یہ بتایا جائے کہ جھوٹی شکایت کرنے پر قانوناً کیا سزا مل سکتی ہے۔
شکایت درج کرتے وقت الزامات کی سچائی کی تصدیق کرنے والا ایک لازمی حلف نامہ لیا جائے۔
جھوٹی گواہی اور فرضی ثبوتوں سے نمٹنے والے قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے ان تمام نکات پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 4 ہفتے بعد ہوگی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined