قومی خبریں

ممتا بنرجی کے خلاف ای ڈی کی عرضی، سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی

آئی پیک معاملے میں ممتا بنرجی کے خلاف ای ڈی کی عرضی پر سپریم کورٹ کی سماعت ملتوی ہو گئی۔ اگلی سماعت 18 مارچ کو ہوگی۔ ای ڈی نے مداخلت کا الزام لگایا ہے جبکہ ممتا نے الزامات مسترد کر دیے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: آئی پیک چھاپہ ماری معاملے میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 18 مارچ کو ہوگی۔ عدالت میں پیشی کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل نے کہا کہ ای ڈی آج ہی اپنا جواب داخل کر دے گی، جس کے بعد آئندہ تاریخ پر تفصیلی دلائل پیش کیے جائیں گے۔

Published: undefined

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے آئی پیک کے دفاتر پر چھاپہ ماری کے دوران مبینہ مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عرضی میں ممتا بنرجی، مغربی بنگال کے ڈی جی پی راجیو کمار اور کولکاتا پولیس کمشنر منوج کمار کو فریق بنایا گیا ہے۔ ای ڈی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان تینوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ ان پر جانچ عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب ممتا بنرجی نے عدالت میں داخل اپنے حلف نامے میں ای ڈی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کولکاتا میں واقع آئی پیک کے دفاتر میں تلاشی کے نام پر ای ڈی کے افسران نے ترنمول کانگریس سے وابستہ حساس اور انتخابی حکمت عملی سے متعلق خفیہ ڈیٹا ضبط کر لیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی نہ صرف غیر قانونی تھی بلکہ جمہوری عمل میں مداخلت کے مترادف بھی ہے۔

Published: undefined

ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں کہا کہ جیسے ہی انہیں اطلاع ملی کہ آئی پیک کے دفاتر میں چھاپہ ماری جاری ہے اور وہاں پارٹی کا حساس مواد موجود ہے، وہ خود موقع پر پہنچیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف پارٹی کی خفیہ دستاویزات کو محفوظ رکھنا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط استعمال سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے ای ڈی کی کارروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

اب اس معاملے میں تمام فریقین کے دلائل 18 مارچ کو ہونے والی اگلی سماعت میں سنے جائیں گے۔ اس مقدمے کو جانچ ایجنسیوں کے اختیارات اور ریاستی حکومت کے دائرہ کار کے حوالے سے اہم تصور کیا جا رہا ہے، جس پر قانونی اور سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined